خلانورد کی طبی حالت کے سبب ناسا اسپیس اسٹیشن کا مشن ایک ماہ قبل ختم
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ناسا (NASA) نے اعلان کیا ہے کہ 4 رکنی کریو 11 کو اسپیس اسٹیشن سے ایک ماہ پہلے واپس لایا جائے گا کیونکہ ایک خلانورد کی طبی حالت خراب ہو گئی ہے۔
خلانورد کی حالت مستحکم ہے، لیکن ان کی شناخت اور بیماری کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامی انخلا نہیں بلکہ خلانورد کی صحت کو ترجیح دینے کا اقدام ہے۔
مزید پڑھیں: ناسا کا تاریخ میں پہلی بار خلا باز کو طبی وجوہات کے باعث آئی ایس ایس سے واپس لانے کا اعلان
جمعرات کو شیڈول شدہ سپیس واک منسوخ کر دی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسپیس اسٹیشن کے مشن کو طبی وجوہات کی بنا پر قبل از وقت ختم کیا گیا ہے۔
کریو 11 میں 2 امریکی، ایک جاپانی اور ایک روسی خلانورد شامل ہیں۔ ایک امریکی اور 2 روسی خلانورد اب بھی اسٹیشن پر موجود رہیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیشن کی روزمرہ سرگرمیاں اب محدود عملے کی نگرانی میں چلیں گی جب تک نئے عملے کا انتظام نہ ہو جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
NASA اسپیس اسٹیشن خلانورد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس اسٹیشن خلانورد اسپیس اسٹیشن خلانورد کی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔