وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا سلنڈر حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سلنڈر حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ صحت، سیکریٹری صحت اور پمز انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ رخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جائے۔
وزیرِاعظم نے سیکریٹری داخلہ کو واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ کو سلنڈرز کے استعمال میں حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو آبپارہ میں شادی والے گھر میں سلنڈر دھماکے میں دلہا اور دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔