سندھ میں 9 ہزار سے زائد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
367 ارب کی غیر ملکی امداد اور 76 ارب وفاقی پی ایس ڈی پی کے سماجی منصوبوں پر کام جاری
ہر منصوبے کی بروقت تکمیل، معیار کی حفاظت اور عوام کیلئے ثمرات ہی ترقی کی اصل کامیابی ہے
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں 9 ہزار سے زائد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔صوبے میں ترقیاتی اور دیگر منصوبوں سے متعلق اپنے بیان میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ صوبے میں اب تک 13,000 سے زائد منصوبے شروع کیے گئے جب کہ مختلف شعبوں میں 9,193 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ 367 ارب روپے کی غیر ملکی امداد اور 76 ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت صحت، تعلیم، زراعت، سڑکیں، آبپاشی اور سماجی منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ترقیاتی وژن کا مقصد صرف منصوبوں کا آغاز نہیں بلکہ بروقت تکمیل، معیار کی سخت پاسداری بھی یقینی بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں محکموں کو ہدایت کی گئی کہ نئے منصوبے صرف تب شروع کیے جائیں جب موجودہ منصوبے مکمل ہوں۔ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل اور معیار کی پاسداری ترقیاتی وژن کا لازمی جز ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ شہر کے ہر ترقیاتی منصوبے کا مقصد شہریوں کی زندگی بہتر بنانا اور کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔ کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ (KNIP) کے تحت سڑکوں، پارکوں، نکاسی، سیوریج اور سٹریٹ لائٹنگ کے اپ گریڈیشن کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں سے شہری معیار زندگی میں واضح بہتری آئی ہے۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر شہری ماسٹر پلانز پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے تاکہ غیر منصوبہ بند کاموں کو روکا جا سکے۔ سندھ میونسپل سروسز ڈلیوری پروگرام کے تحت جیکب آباد اور دیگر شہروں میں پانی کی فراہمی، فضلہ اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔ صوبے میں جاری ہر ترقیاتی منصوبے کا مقصد عوامی خدمات، اقتصادی سرگرمی اور پائیداری یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر منصوبے کی بروقت تکمیل، معیار کی حفاظت اور عوام کے لیے ثمرات ہی ترقی کی اصل کامیابی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے کہا کہ معیار کی چکے ہیں کے تحت
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔