بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کے سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے: سرکاری شواہد
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں، خصوصاً فتنہ الہندوستان کے لیے بظاہر ایک سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے اور بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کی توثیق اب ٹھوس شواہد سے بھی ہوچکی ہے۔
مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے، اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں ہسپتالوں سے ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، جسے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا گیا۔
حکام کے مطابق دہشتگردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر لاپتا افراد کے بیانیے میں شامل کرکے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے، 23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا، ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں لیکچرار رہ چکا ہے۔
حکام کے مطابق ساجد بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور قیادت سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے دہشتگرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں ملوث تھا، جس کا اس نے اعترافی بیان میں بھی اقرار کیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید 3 سہولت کاروں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلی جنس یا دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے، ان میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ سرفراز کو پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا جہاں اس نے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو بھی پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے میں مارا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دعوؤں کے برعکس شواہد موجود ہیں کہ نابالغوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد نوجوانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے نام پر ایک حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے، جو دہشتگرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ سمیت بین الاقوامی سطح پر بی وائی سی کی پروپیگنڈا سرگرمیاں بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کی عکاس ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے، مارچ اور مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں، جس کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان استعمال کیا کیا جاتا ہے کر رہی ہے ڈی آئی جی کے طور پر کے مطابق سی ٹی ڈی کے لیے ہے اور
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔