کراچی: ڈیفنس کے فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں ایک فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی ہوئی خاتون کو پولیس نے علاقہ مکینوں کی اطلاع پر بازیاب کرا لیا۔
پولیس کے مطابق بازیاب کرائی گئی خاتون شیریں جناح کالونی کی رہائشی ہیں اور انہیں عمارت کی تیسری منزل پر واقع ایک کمرے میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون کے سابق شوہر نے بچوں کے خرچ کے معاملے پر بات کرنے کے بہانے انہیں گھر بلایا اور پھر اپنے ایک ساتھی کی مدد سے انہیں زنجیروں سے باندھ دیا، جس کے بعد دونوں موقع سے فرار ہو گئے۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں اور شوہر سے علیحدگی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
ان کے مطابق بچوں کی کفالت کا مسئلہ دونوں فریقین نے عدالت سے باہر طے کیا تھا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے باوجود سابق شوہر نے دوبارہ رابطہ کیا اور مالی معاملات کے حل کی بات کرتے ہوئے ملاقات کے لیے بلایا، جہاں اسے قید کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق پڑوسیوں نے مشکوک حالات دیکھ کر پولیس کو آگاہ کیا تھا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور فلیٹ میں داخل ہو کر خاتون کو آزاد کرایا۔ اس کے بعد خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم لطیف اور اس کے ساتھی امان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک