کراچی: باغ جناح میں پولیس اہلکاروں پر پی ٹی آئی کارکنان کا پتھراؤ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
کراچی میں باغ جناح میں پولیس اہلکاروں پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا ہے، پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہوا ہے۔
اس سے قبل کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلسہ گاہ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی اور واٹر کینن بھی نمائش چورنگی کے قریب پہنچا دی گئی۔
کراچی: پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت مل گئیصوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ جلسے کے لیے این او سی شرائط کے ساتھ جاری کیا گیا،
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے تحریک انصاف کو کرسیوں اور کنٹینر کے ساتھ جلسے میں شرکت کیلئے افراد پہنچانے کی بھی پیشکش کردی۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بندے کم پڑ رہے ہیں تو وہ بھی بھجوادیتے ہیں۔
وزیرِ داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا ہے کہ گراؤنڈ سے باہر یا کسی بھی سڑک پر جلسہ ہوگا تو حکومت سندھ سخت ایکشن لے گی۔
سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس کارکنان موجود نہیں، اس لیے ناٹک شروع کیا ہے ، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ انہیں جلسے کے لیے لوگ بھی سندھ حکومت مہیا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔