پاکستان تحریکِ انصاف نے آج کراچی میں مزارِ قائد کے سامنے جلسے کی کال دے رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ جلسے کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسے کے لیے روانگی سے قبل ویڈیو پیغام میں کہا کہ کراچی آنے اور باغِ جناح جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے.

اس کے باوجود ہم جلسہ کریں گے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے جس طرح مہمانوں کو عزت دی وہ سب نے دیکھ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی جعلی حکومت سندھی ٹوپی اور اجرک کو عزت نہیں دے پائی. تاہم عوام نے انہیں عزت دی ہے اوروہ سندھی ٹوپی اور اجرک کی لاج رکھیں گے۔

دوسرے پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا اور اسے روکنے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوں گے۔انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، کراچی کے ہر کونے سے کارکن نکلیں اور ہمارے قافلے کا حصہ بنیں۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارا قافلہ بلدیہ ٹاؤن سے کیماڑی کی طرف بڑھ رہا ہے جو کیماڑی سے بنارس چوک کی طرف جائے گا۔ جس کے بعد اس قافلے کا رُخ گرومندر کی جانب ہوگا جہاں مزارِ قائد پہنچ کر جلسہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کا آج آخری روز ہے۔ سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے اور ماحول کو اچھا رہنے دیا جائے۔انہوں نے سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بہت برداشت کیا ہے. ایک دن آپ بھی صبر کر لیں۔بیرسٹر گوہر نے کراچی کے عوام سے جلسے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ مقررہ وقت اورمقام پر جمہوری انداز میں ہوگا۔ یہ جلسہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ حقوق کے لئے ہوگا۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر حال میں جلسہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس دن ہمارے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور مینڈیٹ لوٹا گیا۔ انہوں نے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھی اپیل کی۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ سندھ پر انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایک آئینی عہدہ ہے اور حکومتِ سندھ نے آئینی تقاضوں کے مطابق اس عہدے کا مکمل احترام کیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی انتظامیہ حکومتِ سندھ سے مسلسل رابطے میں رہی. اجازت کے باوجود الزامات عائد کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے نہیں روکا گیا، مسئلہ سڑکوں پر ریلیوں اور جلوسوں کا ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ریلیوں سے ٹریفک بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان قانون ہاتھ میں نہ لیں اور حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل کریں۔

گزشتہ روز حیدرآباد سے واپسی پر راستے بند کرنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ حیدرآباد میں پی ٹی آئی نے دیے گئے روٹ پر عمل نہیں کیا اور اپنی مرضی کا راستہ اختیار کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے کو کہیں نہیں روکا گیا۔انکا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پُل پر اکثر ٹریفک جام رہتا ہے، یہ معمول کا مسئلہ ہے۔ ہیوی ٹریفک اور ٹرالرز روزانہ اسی مقام سے گزرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں تحریکِ انصاف کی جانب سے اتوار کے روز جلسے کی کال پر مزارِ قائد اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔باغِ جناح کے چاروں اطراف پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں آنکھ مچولی جاری ہے.سولجربازار سے نمائش آنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس پر کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کہ پی ٹی آئی سندھ حکومت کی جانب کہ سندھ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا