فرانزک رپورٹ مکمل؛ 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
پشاور میں 9 مئی واقعات کی ویڈیوز کی تصدیق کا مرحلہ مکمل ہوگیا جبکہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے ویڈیوز کی رپورٹ بھی تیار کرلی ہے۔رپورٹ کے متن میں بتایا گیا ہے کہ 9 مئی واقعات میں وزیراعلیٰ بلوچستان سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔پنجاب فرانزک لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر 9 مئی واقعات کی ویڈیوز اور آڈیو ویژول کا تجزیہ کیا، رپورٹ پشاور کے تھانا شرقی کی بھجوائی گئی یو ایس بی میں موجود وڈیوز پر مبنی ہے۔رپورٹ کے متن کے مطابق یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا، متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، چند ویڈیوز میں لوگو اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی کی گئی۔فرانزک لیبارٹری نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور عرفان سلیم کی دو ویڈیوز میں کلپس جوڑنے کے شواہد بھی سامنے آئے، سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر کو 9 مئی کی ویڈیو سے ملا کر دیکھا گیا، ان کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے۔اس کے علاوہ عرفان سلیم کی پروفائل تصویرکی بھی ویڈیوز میں موجود ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ کامران بنگش کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص کو ایک ہی قرار دیا گیا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی پروفائل تصویر سہیل آفریدی ویڈیوز میں مئی واقعات کی تصدیق
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے