وزن میں کمی کے لیے ’آف لیبل‘ دواؤں یا انجیکشنز کا استعمال کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
برطانیہ میں حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ پچھلے ایک سال میں کم از کم 1.6 ملین افراد وزن کم کرنے والے انجیکشنز استعمال کی ہیں، تاہم ہر 7واں صارف ایسی دوائیں لے رہا تھا جو وزن کم کرنے کے لیے منظور شدہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: درمیانی عمر میں وزن میں کمی انسانی زندگی میں برسوں کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق
وزن کم کرنے والی مشہور ادویات جیسے ویگووی اور مونجارو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد افراد ان ادویات کو بغیر نسخے کے خرید کر وزن کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن(یوسی ایل) کے محققین کی جانب سے 5260 شرکا پر کیے گئے سروے کے مطابق اس سال تقریباً 3.
یہ بھی پڑھیں: وزن میں کمی کی دوائیں کیسے کام کرتی ہیں؟
سروے میں بتایا گیا کہ 2.9 فیصد شرکاء نے GLP-1 دوائیں وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی تصدیق کی، جو کہ پورے ملک میں تقریباً 1.6 ملین افراد بنتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بغیر طبی نگرانی یا نسخے کے’آف لیبل‘ دوائیں لینا سنگین صحت کے خطرات پیدا کرسکتا ہے، جن میں دل، جگر اور ہاضمہ سے متعلق مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی کو شکست دینے والا اور وزن میں کمی لانے والا گیم چینجر مشروب
ماہرین کی نصیحت ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے کسی بھی انجیکشن یا دوا کا استعمال صرف ڈاکٹر کی ہدایت کے تحت کیا جائے تاکہ صحت کے سنگین مسائل سے بچا جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ادویات انجیکشن برطانیہ وزن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادویات انجیکشن برطانیہ کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔