بھارت کیخلاف جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستانی ہتھیاروں کی عالمی مانگ میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں جیسے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر نے گزشتہ سال مئی اور 2019 میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔اسی ہفتے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔ذیل میں مئی 2025 کے بعد پاکستان کے ان دفاعی معاہدوں اور مذاکرات کی مختصر ٹائم لائن دی جا رہی ہے جو دوست ممالک کے ساتھ طے پائے یا زیرِ غور ہیں۔10 جنوری 2026: عراقی فضائیہ کی جے ایف 17 میں گہری دلچسپیعراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورۂ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔رطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ — آئی ایس پی آر
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جے ایف 17 تھنڈر پاک فضائیہ فضائیہ کی فضائیہ کے کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔