بنگلہ دیش کی حکومت نے ملک کے واحد مرجانی جزیرے سینٹ مارٹن پر سیاحت کو سختی سے محدود کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد تیزی سے تباہ ہوتے ماحولیاتی نظام کو بچانا اور بے ہنگم سیاحتی سرگرمیوں سے ہونے والے نقصان کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے معاہدے پر دستخط کردیے

وی نیوز کے مطابق وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے تیار کردہ 10 سالہ ماسٹر پلان کے تحت سینٹ مارٹن جزیرے پر سیاحوں کی نقل و حرکت کو 8 مربع کلومیٹر کے جزیرے میں صرف 4 کلومیٹر کے مخصوص علاقے تک محدود کر دیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بے قابو سیاحت نے جزیرے کی ماحولیاتی گنجائش کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

The coral reefs of Saint Martin’s Island, #Bangladesh
Pix: courtesy @dailystarnews pic.

twitter.com/M6yAhcmJay

— MG Shahidul Haque(retd) (@haque_shahidul) August 4, 2023

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پابندیاں لگنے سے قبل ایک ہی وقت میں 7 ہزار سے زائد سیاح جزیرے پر قیام کر رہے تھے، جو اس کی پائیدار صلاحیت سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس دباؤ کے باعث مرجان چننے، کشتیوں سے سمندری آلودگی اور ساحلوں پر کچرے میں اضافہ ہوا، جس سے مرجانی چٹانیں شدید خطرے سے دوچار ہو گئیں۔

سائنسی تحقیقات بھی صورتِ حال کی سنگینی ظاہر کرتی ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق 1980 میں جزیرے پر مرجان کی 141 اقسام موجود تھیں جو 2018 تک کم ہو کر صرف 40 رہ گئیں۔

ایک بین الاقوامی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو 2045 تک یہ جزیرہ مرجان سے مکمل طور پر خالی ہو سکتا ہے۔

ماسٹر پلان کے تحت جزیرے کو 4 زونز میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلے زون میں تمام ہوٹلز اور ریزورٹس محدود کیے جائیں گے اور صرف اسی علاقے میں رات گزارنے کی اجازت ہو گی، وہ بھی روزانہ 900 سیاحوں کی حد کے ساتھ۔ ساحل پر گاڑیوں کا استعمال، مرجان جمع کرنا، رات کی روشنی اور آلودگی پر پابندی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد

دوسرے اور تیسرے زون کو حساس ماحولیاتی علاقوں کے طور پر تحفظ دیا جائے گا، جہاں تعمیرات اور نقصان دہ سرگرمیاں ممنوع ہوں گی، جبکہ کچھ حصوں میں دن کے وقت محدود سیاحت کی اجازت دی جائے گی۔ چوتھا زون، چرا دیپ عام سیاحوں کے لیے تقریباً بند رہے گا اور وہاں اترنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

جزیرے پر تقریباً 1,445 خاندان آباد ہیں، جن کی آمدنی کا انحصار سیاحت اور ماہی گیری پر ہے۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ نئی پابندیوں سے مقامی آبادی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے متبادل روزگار کے منصوبے متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جن میں ماہی گیری اور زراعت سے متعلق منصوبے شامل ہوں گے۔

ماحولیات کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے کہا ہے کہ مقامی آبادی کی شمولیت اور منظم سیاحت کے بغیر سینٹ مارٹن کو بچانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ 5 سال میں نافذ کیا جائے گا، جبکہ اگلے 5 سال نگرانی اور انتظام کے لیے مختص ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی بحالی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ہر 5 سال بعد سیاحوں کی تعداد پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش جزیرہ سینیٹ مارٹن جزیرہ کورل آئی لینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جزیرہ سینیٹ مارٹن جزیرہ کورل ا ئی لینڈ کے مطابق جائے گا

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی