الیکشن کے دوران سیکولرازم کی بات کرنے والے مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں کے دشمن ہیں، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ جہاں عمر اور شرجیل پانچ سال سے جیل میں سڑ رہے ہیں، وہیں ایلگار پریشد کیس کے ملزم 85 سالہ اسٹین سوامی کی اسی قانون کیوجہ سے جیل میں موت ہوگئی۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے دہلی فساد معاملے میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے کے لئے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی "یو اے پی اے" کا قانون جس کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، اسے کانگریس کے دور حکومت میں ہی بنایا گیا تھا۔ حیدرآباد کے رکن اسمبلی 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل آج مہاراشٹر کے امراوتی کے چاندنی چوک علاقے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ نے کہا کہ انتخابات کے دوران سیکولرازم کی بات کرنے والے دراصل مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں کے دشمن ہیں، کیونکہ وہ ووٹ پانے کے لئے سیاسی سیکولرازم کا استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 15A کی بنیاد پر 2020ء کے دہلی فسادات کی سازش معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام دونوں کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے یو اے پی اے متعارف کرایا تھا اور میں (اسد الدین اویسی) نے پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا "میں اکیلا تھا جس نے کہا تھا کہ پولیس اس قانون کو مسلمانوں، قبائلیوں، دلتوں اور دانشوروں کے خلاف اس کا استعمال کرے گی جو حکومت کی پالیسیوں کو سمجھتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج کیا ہوا۔ ان دونوں بچوں کو اس قانون میں دہشت گردی کی تعریف کی وجہ سے ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا"۔
اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ جہاں عمر اور شرجیل پانچ سال سے جیل میں سڑ رہے ہیں، وہیں ایلگار پریشد کیس کے ملزم 85 سالہ اسٹین سوامی کی اسی قانون کی وجہ سے جیل میں موت ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب 2019ء میں "یو اے پی اے" میں ترمیم کی گئی تھی، کانگریس نے بی جے پی حکومت کی حمایت کی تھی، وہی قانون اب معصوم لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر رہا ہے۔ پانچ جنوری کو سپریم کورٹ نے 2020ء کے دہلی فسادات کی سازش کیس میں سماجی کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی، لیکن "حصے داری کے لیول" کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ دیگر کو ضمانت دے دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی سے جیل میں اور شرجیل نے کہا کہ انہوں نے آئی ایم
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔