روسی بمباری سے قطری سفارت خانہ نقصان سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض: یوکرین کے دار الحکومت میں بم باری کے باعث قطر کا سفارت خانہ بھی نقصان سے نہ بچ سکا۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے یوکرینی دار الحکومت کیف میں قطر کے سفارت خانے کی عمارت کو پہنچنے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے مطابق سفارتی مشنز کی عمارتوں کو عملے سمیت مکمل تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے روسی یوکرینی بحران کے پ±ر امن حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کے اپنے موقف کی تجدید کی۔
واضح رہے کہ قطری وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ سفارت خانوں، سفارتی مشنز، بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر اور شہری تنصیبات کو بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور قانون کے تحت ان سے وابستہ افراد کا تحفظ ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔