data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: سربراہ جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں ادب، اخلاق اور اعتدال کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ دنیا کی کسی بھی دانش گاہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

جامعہ مدینہ جدید، رائے ونڈ روڈ لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا اصل کام اور مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اپنے بڑوں اور اسلاف کے نصب العین کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی دنیا میں آیا ہے وہ جانے کے لیے آیا ہے، کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام کو اعتدال کا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان کو دانستہ طور پر اپنے اسلاف سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جا رہا ہے، جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس نہ صرف دینی علوم بلکہ ادب، احترام اور اخلاقیات کی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب حکمرانوں کی باطل قوتیں حرکت میں آتی ہیں تو وہ نئی نئی شکلیں اختیار کرتی ہیں، ایسے حالات میں جو آواز ان کے مقابلے میں کھڑی ہوتی ہے، وہی حق کی آواز ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام کی بقا آرام، سہولت اور آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں اور قربانیوں سے گزرنے میں ہے، اور یہی تاریخِ اسلام کا مستقل پیغام ہے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کہا کہ

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا