قانون کی خلاف ورزی کی کسی سیاسی جماعت یا گروہ کو اجازت نہیں دیں گے، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
میڈیا سے بات چیت میں مرتضی وہاب نے کہا کہ سہیل آفریدی ہمارا مہمان ہے سیکورٹی فراہم کرنا ذمہ داری ہے، سڑک بلاک کرنے کے ہرگز ہم حامی نہیں ہیں، باغ جناح چھوڑو، کے ایم سی کے کسی چھوٹے گراؤنڈ میں ہی جلسہ کرو۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو نہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کو خوش آمدید کہا، کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ میڈیا سے بات چیت میں میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ سہیل آفریدی جہاں گئے سو یا دو سو لوگ استقبال کرتے نظر آئے، مہمان نوازی کرکے خیبرپختونخوا کے عوام کو محبت کا پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی رواداری کو فروغ دینا چاہتی ہے، رواداری کا یہ مطلب نہیں آپ قانون ہاتھ میں لیں، کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔
مرتضی وہاب نے کہا کہ سیکیورٹی مہیا کرنے کیلئے کرکٹ کھیلنے والوں کو ہٹایا گیا تھا، پہلے بھی خودکش بمبار اس طرح کی سرگرمیوں کو نشانہ بناچکے ہیں، سہیل آفریدی ہمارا مہمان ہے سیکورٹی فراہم کرنا ذمہ داری ہے، سڑک بلاک کرنے کے ہرگز ہم حامی نہیں ہیں، باغ جناح چھوڑو، کے ایم سی کے کسی چھوٹے گراؤنڈ میں ہی جلسہ کرو۔ میئر کراچی نے مزید کہا کہ میں کراچی کی ترجمانی کرتا ہوں تو نوٹس جاری ہو جاتا ہے، مسئلہ یہ ہے لیڈران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں کچھ کہتے ہیں، پر امید ہوں شہباز صاحب اس شہر سے کیے گئے وعدے وفا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مرتضی وہاب نے کہا میئر کراچی کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔