اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر رہنماؤں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے وہیں خود حکومتی رپورٹس میں عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے اور غربت میں اضافے کے اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایس آئی ایف سی نمایاں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہا، پی آئی اے کی نج کاری کی حمایت کرتے ہیں تاہم ورکرز کے استحصال کے خلاف ہیں۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں محمد زبیر نے کہا کہ سرکاری سروے کے مطابق 80 فیصد عوام کا طرزِ زندگی خراب ہوا ہے جبکہ اتنے ہی فیصد لوگوں نے مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری میں کمی کی ہے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر شہری مڈل کلاس ہوئی ہے اور 23 فیصد شہری آبادی کی آمدن اور معیارِ زندگی نیچے چلا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں چار سال میں عوام کی زندگی نیچے چلی گئی ہو وہاں یہ پوچھنا لازم ہے کہ حکومت نے آخر حاصل کیا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو کنٹرول میں لے کر بھی معیشت بہتر نہیں کی جا سکی۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہو گئی، جو اس ادارے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں تین کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔

محمد زبیر نے کہا کہ امریکا اور مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ ملک میں قانون کی بالادستی موجود نہیں۔ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے قبل بین الاقوامی عدالتوں میں مصالحت کا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھ ماہ میں معیشت بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے، جبکہ جنوری 2022 میں یہی ذخائر 2023 میں کم ہو کر 2.

9 ارب ڈالر رہ گئے۔ ان کے مطابق جون 2023 میں ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب آئی ایم ایف پروگرام کو نقصان پہنچایا گیا۔

محمد زبیر نے کہا کہ نیب کی جانب سے 5300 ارب روپے کی ریکوری کے دعوؤں کی وضاحت کی جائے کہ یہ رقم کس سے وصول کی گئی اور کن افراد کو سزا دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گندم اسکینڈل 300 ارب روپے کا تھا جس پر آڈیٹر جنرل نے رپورٹ دی، چینی اسکینڈل میں بھی 300 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ وزیر پیٹرولیم خود اعتراف کر چکے ہیں کہ 300 ارب روپے کی پیٹرولیم مصنوعات اسمگل ہو رہی ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جلسے کے لیے این او سی جاری ہونے کے باوجود پولیس نے گھیراؤ کیا، گرفتاریاں کی گئیں اور اسٹیج و ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والوں کو ہراساں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود جلسہ ضرور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو اصولی طور پر سپورٹ کرتے ہیں لیکن اس عمل میں شفافیت اور ورکرز کے حقوق پر سنگین سوالات موجود ہیں اور نجکاری کے نام پر کسی بھی قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو تباہ کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت اور پارلیمان محض ڈھکوسلہ بن چکے ہیں اور ملک عملی طور پر ایک جیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو آمدورفت کی آزادی دیتا ہے مگر آج یہ حق سلب کیا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے اور جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری سلمان اکرم ارب روپے کہا کہ ا

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی