لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ڈی ایم اے نے مختلف شہروں میں 16 جنوری تک سردی کی شدت سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، پوٹھوہار ریجن میں شدید سردی کے ساتھ برفباری کے امکانات ہیں،دھند اور اسموگ کی صورتحال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پی ڈی ایم اے نے سیاحت، تعلیم، صحت، زراعت، لوکل گورنمنٹ، جنگلات اور دیگر محکموں کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔

دوسری جانب موسمی ماہرین کے مطابق تمام موسمیاتی ماڈلز شدید موسمی حالات کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے خطّے کو متاثر کرنے کے آثار دکھا رہی ہیں۔ ایسی سردی جو دہائیوں بعد پڑنے کے امکانات بن رہے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں سے سندھ تک نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع ہے۔

ایران  میں  مقیم  پاکستانی شہریوں کو  وزارت  خارجہ کی جانب  سے جاری کردہ ایڈوائزری  پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت

ایک کمزور ہوا کا کم دباؤ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسکے بعد 16 سے 18 جنوری کے درمیان ایک ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے۔راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں برفباری کے امکانات ہیں۔ کم سے کم درجہ حرارت انتہائی سطح تک گرسکتا ہے، موسمیاتی ماڈلز کے مطابق لاہور شہر میں برفباری ممکن ہے، یہ حیران کُن صورتحال سن 1878 کے بعد رونما ہو سکتی ہے۔

کوئٹہ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ ایسا سن 1970 کے بعد ہونے کا امکان ہے۔پشاور میں شہر میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش جبکہ 23 سے 25 جنوری کے درمیان باقاعدہ برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت پر بارش اور برفباری متوقع ہے۔ اس دوران کوئٹہ اور قلّات میں 4 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے۔ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی انتہائی سرد، برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

لوگوں کے مسائل حل کرنے پڑیں گے،نئے صوبے سب کے فائدے کیلیے ہیں: عبدالعلیم خان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جنوری کے درمیان

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی