ایران میں مقیم پاکستانی، وزارتِ خارجہ کی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں، سفیر پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو(فائل فوٹو)۔
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سفارتخانے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔
انکے مطابق ایران میں وائی فائی سروس ڈاؤن ہے جبکہ ٹیلی فون کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی شہروں میں واقع پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے کی لینڈ لائنز بحال ہیں اور پاکستانی شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
مدثر ٹیپو نے بذریعہ سڑک پاکستان واپس جانے کے خواہشمند شہریوں کو ہدایت کی کہ بارڈر بند ہونے کے وقت سے کم از کم چار گھنٹے قبل سرحد پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واپسی کے وقت پاسپورٹ پر امیگریشن اسٹیمپ لگوانا ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ بعد میں کسی قانونی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان واپس آنے کے خواہشمند طلبہ کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ طلبہ باضابطہ طریقہ کار مکمل کرکے روانہ ہوں اور اپنی متعلقہ یونیورسٹی سے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ضرور حاصل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ سفارتخانہ ایرانی بارڈر اتھارٹیز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی شہریوں اور طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔
سفیر مدثر ٹیپو کے مطابق ہرمزگان یونیورسٹی کے 72 پاکستانی طلبہ آج پاکستان واپس روانہ ہو چکے ہیں جبکہ زنجان یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہرمزگان یونیورسٹی سے واپس جانے والے طلبہ کو سفارتخانے کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایران میں مدثر ٹیپو
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔