Express News:
2026-07-24@14:30:11 GMT

امریکی تھانے داری قبول نہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

پچھلے دنوں امریکا نے جنوبی امریکا کے ملک وینز ویلا پر حملہ کر کے وہاں کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا تھا۔ صدر اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری رات کے اندھیرے میں عمل میں آئی۔ اس وقت وینزویلا کے صدر اپنی خواب گاہ میں تھے اور اہلیہ ان کے ساتھ ہی گرفتار کر لی گئیں۔ ان پر امریکا نے منشیات فروشوں کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔وینزویلا جنوبی امریکا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ امریکا اس ملک کے خام تیل کا بڑا خریدار ہے۔ بظاہر یہ کارروائی تیل کے کسی قضیے کا نتیجہ ہے۔ تیل دراصل رقیق سونا ہے جو کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کو یکسر بدل سکتا ہے۔

امریکا نے وینزویلا پر حملہ کرنے کی جو وجہ بتائی ہے وہ کوئی بھی شیر اپنے شکار پر حملہ کرتے وقت برت سکتا ہے بلکہ بتاتا ہے۔ طاقتور کمزورکو تابع بنانے کے لیے، اسے غلامی کو قابل قبول بنانے کے الزام کا خود تعین کرتا ہے۔ چنانچہ امریکا کا الزام بھی خودساختہ الزام ہی تھا جو حملے کے جوازکے طور پر پیش کیا گیا مگر یہ اتنا بھونڈا الزام ہے جو کسی کھلے ذہن و دماغ کے حلقے سے اترتا نظر نہیں آتا۔

اس کارروائی میں جو نصف شب کے وقت انجام دی گئی، امریکا کے درجنوں ہوائی جہازوں اور پانی کے جہاز نے بھی حصہ لیا۔ وینزویلا کے صدرکوگرفتار کرکے امریکی نیوی کے مسلح اور مستعد جہاز کے ذریعے امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں نیویارک میں ان پر مقدمہ چلے گا۔

وینزویلا کے صدر کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں گرفتاری کے بعد ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور وہ ایک مجرم کے طور پر گرفتار کرکے اپنے وطن سے دور لے جائے جا رہے ہیں۔ دوسرے دن ان کو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ پابجولاں تھے یعنی ان کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ امریکی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی براہ راست نگرانی میں عمل میں آئی، وہ اپنی آرام گاہ میں ٹیلی وژن پر اس گرفتاری کی کارروائی دیکھتے رہے۔ عدالت میں پیش ہونے کے بعد کارروائی اگلی تاریخ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

وینزویلا کے خلاف امریکا کی یہ کارروائی بالکل اسی طرح کی ہے، جس طرح کوئی شیر بلی کو کھانے کے لیے اختیارکرتا ہے، چنانچہ دنیا بھر میں اس کے خلاف شدید رد عمل کا اظہارکیا گیا ہے۔ روس، چین، پاکستان اور متعدد ممالک میں اس عمل کے خلاف رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ چین نے اپنے اسٹرٹیجک مذاکرات کے ساتویں اجلاس میں معمول کی کارروائی کے علاوہ امریکی اقدام پر اپنے غیر معمولی رد عمل کا اظہارکیا اور اسے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ ’’ننگی جارحیت‘‘ کہہ کر اسے اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وینزویلا کے صدر کو گرفتاری کے بعد امریکی جنگی جہاز پر منتقل کیا گیا۔ بعدہ گوانتانامہ کے قید خانے میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا۔ یہ وہی بدنام زمانہ قید خانہ ہے جس میں امریکا اپنے مخالفین کو قید و بند میں رکھتا رہا ہے۔ 63 سالہ مادورو کو امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے دفتر لے جایا گیا جہاں سے ان کو بروکلین میں واقع میٹرو پولیٹن مزاحمتی مرکز میں منتقل کیا گیا۔ اس صورت حال کے باعث وینز ویلا کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی آئل کمپنیوں نے جتنی سرمایہ کاری وینزویلا میں کی اتنی کہیں اور نہیں کی تھی (گویا یہ بھی امریکا کا وینزویلا پر احسان تھا)۔ یوں امریکی ڈالر برباد کیے گئے، جن سے وینزویلا میں انفرا اسٹرکچر قائم کیے گئے۔ اس لیے جب تک امریکا مطالبات اور اہداف پورے نہیں ہوتے امریکی فوجی دستے اس ملک میں رہیں گے۔

بلی اس طرح تھیلے سے باہر آگئی۔ امریکی اقدام کا اصل مقصد دراصل وینزویلا پر تسلط قائم کرکے اس کی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا مقصود تھا اور اس کے لیے اس نے صدر وینزویلا پر منشیات کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے ملک پر ہی اپنی اجارہ داری مستحکم کر لی۔

صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کو اپنے ہی ملک پر فوجی حملے کی دعوت دینے والی اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ خاتون ماریہ کورینا کی مقبولیت اور داخلی حمایت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کا ملکی قیادت سنبھالنا دشوار ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ نے وینزویلا کا ایک اور قصور ڈھونڈ نکالا ہے کہ وینز ویلا ہمارے مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ ملک منشیات فروشوں کی جنت نہ بنا رہے۔

اللہ اللہ! آپ کو وینزویلا کی بہشت زار بننے کی کتنی شدید خواہش ہے اور اسی ’’انسانی خواہش‘‘ کے تحت آپ نے اس ’’پدی‘‘ جیسے ملک پر حملہ آور ہو کر اسے جنت کا نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

امریکی غیر انسانی اور غیر قانونی طرز عمل پر سب سے زیادہ شدید رد عمل چین نے ظاہر کیا ہے۔ چین نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ان کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وینزویلا پر چڑھائی پر چین کو شدید تشویش ہے۔

امریکا وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ترک کرکے اور عالمی تھانیدار بننے کے اپنے کردار کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کے مطابق اقدام کرنا سیکھے۔ ادھر ٹائم میگزین نے بھی اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ امریکا کے موجودہ اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا نے جس طرح گزشتہ پچیس تیس سال میں مشرق وسطیٰ میں غیر ضروری مداخلت اور اس میں ناکامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، ورنہ وہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے سلیقے سے واقف ضرور ہو جاتا۔

 فرانس اور جرمنی نے اس صورت حال کو پرامن انداز میں نمٹانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پاکستان نے امریکی اقدامات پر محتاط انداز میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ مجموعی طور پر پوری دنیا امریکا کی اس اشتعال انگیز بالادستی سے بے زار نظر آتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر وینزویلا پر امریکا نے اور ان کی پر حملہ کیا گیا اور اس کے لیے ہے اور کیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک