ای او بی آئی پنشن میں باعزت زندگی کا حصول؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا مقصد آرام، تحفظ اور باعزت گزارا ہونا چاہیے، مگر پاکستان میں ای او بی آئی (Employees’ Old-Age Benefits Institution) کے تحت ملنے والی کم از کم پنشن 11,500 روپے اس تصور کی صریح نفی کرتی ہے۔ یہ رقم موجودہ معاشی حالات میں نہ صرف ناکافی ہے بلکہ بزرگ شہریوں کو مالی، جسمانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہی ہے۔
ای او بی آئی کا قیام 1976 کے ایکٹ کے تحت عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد نجی شعبے کے کارکنوں کو بڑھاپے میں سماجی تحفظ فراہم کرنا تھا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 50 برس گزرنے کے باوجود ملک کے تمام نجی ادارے اور ان کے ملازمین ای او بی آئی میں رجسٹرڈ نہیں ہو سکے۔ حالانکہ ای او بی آئی کو لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ اداروں کے تمام ملازمین کو رجسٹر کرے اور عدم تعمیل پر کارروائی کرے، تاکہ ہر محنت کش ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا حقدار بن سکے۔
اعداد و شمار اس نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ پاکستان میں لیبر فورس کی تعداد تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ ہے، مگر ای او بی آئی میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد جولائی 2025ء تک صرف 1 کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے، جبکہ پنشن حاصل کرنے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے بھی کم ہے۔ دوسری جانب ایک محتاط اندازے کے مطابق ای او بی آئی کا سرمایہ 700 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اس کے باوجود پنشن کی رقم 11,500 روپے تک محدود ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
2025ء کے بعد مہنگائی کی جس لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس نے بزرگ پنشنرز کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ آٹا، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، کرایہ مکانات اور ادویات سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ایک ریٹائرڈ مزدور، جس نے اپنی جوانی ملک کی معیشت کے لیے وقف کی، بڑھاپے میں 11,500 روپے پر گزارا کرنے کا پابند ہے؟
دنیا کے مہذب ممالک میں پنشن کو مہنگائی کے تناسب سے سالانہ بنیادوں پر ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تاکہ پنشنرز کی قوتِ خرید برقرار رہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ای او بی آئی پنشن اس اصول سے ہم آہنگ نہیں۔ افراطِ زر میں اضافہ ہو تو اس کا بوجھ براہِ راست پنشنرز پر پڑتا ہے، اور اگر کہیں معمولی کمی ہو بھی جائے تو اس کا فائدہ انہیں نہیں ملتا۔
سب سے سنگین مسئلہ صحت کے اخراجات ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ بیماریوں اور ادویات کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے، مگر کم پنشن کے باعث بزرگ شہری مناسب علاج سے محروم رہتے ہیں۔ نجی اسپتالوں کی فیسیں اور مہنگی ادویات انہیں یا تو قرض لینے پر مجبور کرتی ہیں یا علاج ترک کرنے پرجو ایک انسانی المیہ ہے۔
یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ اپنے بزرگ شہریوں کو غربت اور بے بسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا۔ اگر حکومت نے فوری اصلاحات نہ کیں تو لاکھوں پنشنرز غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے۔
کچھ ناگزیر اصلاحات
پنشن کو مہنگائی سے منسلک کیا جائے:
پنشن کی رقم کو سالانہ بنیاد پر صارف قیمت اشاریہ (CPI) کے مطابق خودکار طور پر ایڈجسٹ کیا جائے، اور کم از کم پنشن کو کم از کم اُجرت سے منسلک کیا جائے۔
ڈیجیٹل نظام اور سہولت کاری:
پنشن کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ بزرگ شہری گھر بیٹھے پنشن کی تصدیق اور ادائیگی حاصل کر سکیں۔
صحت کی سہولیات:
پنشنرز اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے مفت یا رعایتی علاج، میڈیکل انشورنس یا سینئر سٹیزن ہیلتھ کارڈ متعارف کرایا جائے۔
ای او بی آئی میں شفافیت اور اصلاحات:
ادارے کے فنڈز کو شفاف، محفوظ اور منافع بخش منصوبوں میں لگایا جائے تاکہ پنشن میں معقول اضافہ ممکن ہو۔
بیواؤں اور بچوں کے لیے خصوصی پیکیجز:
وفات پانے والے ملازمین کے اہلِ خانہ کے لیے کفالت، تعلیم اور علاج کے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں۔
سینئر سٹیزنز کے لیے رعایات:
پبلک ٹرانسپورٹ، ادویات اور اشیائے ضروریہ پر رعایت دی جائے تاکہ ان کی مالی مشکلات کم ہوں اور معاشرتی احترام بھی بڑھے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ باعزت بڑھاپا کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ای او بی آئی پنشن میں اصلاحات اب خیرات نہیں بلکہ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہیں۔
اظفر شمیم
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او بی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔