Express News:
2026-07-24@05:03:55 GMT

جلے بھی جلائے بھی

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

ہم سبھی جانتے ہیں اس چیز کو… بلکہ اس جذبے کو جو کہ دوسرے کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے اور کرنیوالے کو بھی نہ صرف جلاتا ہے بلکہ اسے یوں اندر ہی اندر کھاتا ہے جیسے لکڑی کو دیمک- انسانی جذبات میں غصے اور نفرت کے جذبات کو عموما ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ دو جذبات بھی عموما اسی جذبے کے بطن سے جنم لیتے ہیں جسے حسد کا جذبہ کہا جاتا ہے- حسد سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی شخص کے لیے تمنا رکھیں کہ جو کچھ اسے عطا ہوا ہے، جو کچھ اس کی صلاحیتیں ہیں، انھیں زوال آجائے-

اس کی کامیابی اور خوشی سے ہمارے دل کو تکلیف اور اس کی ناکامی اور تکلیف سے ہمیں خوشی محسوس ہو- اس کے لیے دل میں کینہ اور بغض ہو اور نہ صر ف دل میں سوچیں بلکہ اس کے بارے میں لوگوں سے بات بھی کریں کہ اسے یہ کامیابی کیوں ملی ہے… وہ تو اس کے قابل ہی نہیں ہے- میں اگر ڈاکٹر نہیں ہوں، استاد نہیں ہوں ، انجینئر نہیں، سیاست دان بھی نہیں اور عالم بھی نہیں مگر کسی ڈاکٹر، استاد، انجینئر، سیاست دان یا عالم کو کوئی کامیابی ملے، دوسرے اسے سراہیں اور اسے اپنی قابلیت کی بنا پر کوئی اہم عہدہ ملے، مراعات حاصل ہوں تو مجھے خواہ مخواہ میں تکلیف ہو کہ یہ سب اسے کیوں ملا… یہ سوچ کیوں نہیں آتی کہ اسی کو ملتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، جس نے اس کے لیے محنت کی ہوتی ہے اور جس کی فیلڈ ہوتی ہے-

کوئی مجھ سے پوچھے کہ کسی خلا باز نے کوئی کامیابی حاصل کر لی تو اس نے اس کے لیے محنت کی اور کام کیا، مجھے گھر میں صوفے پر بیٹھ کر ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے تو یہ کامیابی نہیں مل سکتی نہ ہی کسی اور شخص کے نصیب کا مجھے مل سکتا ہے- مجھے تو وہی ملے گا جو میرے نصیب میں لکھا ہے، جس کے لیے میں نے کام کیا ہے اور جو میری محنت کے نتیجے میں اللہ تعالی کا کرم ہے، اگر مجھے کسی اور کو حاصل ہونے والی خوشیوں سے تکلیف محسوس ہوتی ہے تو مجھے سوچنا چاہیے کہ اگر اسے نہ ملتا تو کیا مجھے مل جاتا؟اگر آپ ایک ہی عمر، جماعت، کلاس، محکمے اور ایک جیسی قابلیت کے دو یا دو سے زیادہ لوگ ہیں تو اس میں امکان ہوتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کا مقابلہ ہوا اور اس میں وہ لوگ کامیاب ہوجائیں جو کسی قابلیت میں آپ سے بڑھ کر ہیں، وہاں حسد محسوس ہونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ ظاہر ہے وہ اور آپ دوبدو مقابلے پر تھے اور آپ کو اس کے مقابلے میں ہار ہوئی- وہاں آپ کے دل میں حسد پیداہونا justifiedہے مگر جہاں کوئی مقابلہ ہو نہ واسطہ نہ تعلق… وہاں حسد بالکل بے جا اور ایک بیماری ہے-

قرآن کریم میں بھی اور احادیث مبارکہ میں بارہا اس کے بارے میں ذکر کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ حسد انسان کو خود بھی تباہ کردیتا ہے اور حسد کی نظردوسرے کو جلا دیتی ہے- اگر پیغمبروں سے ان کے بھائیوں کو حسد ہو سکتا ہے اور وہ حسد ان کی عمر کا جانے کتنا ہی حصہ تکلیف میں گزار دیتے ہیں تو ہم تو بہت ہی عام لوگ ہیں- جابجا حسد کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سے بچنے کا کہا گیا ہے اور تو اور حسد سے پناہ مانگی گئی ہے- سورۃ البقرہ، سورۃ النساء، سورۃآل عمران، سورۃ یوسف، سورۃ الحجر، سورۃ الحشر، اور سورۃ الفلق میں حسد کا ذکر کیا گیا اور ہمیں اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے-ہم میں سے جو دوسروں سے دنیاوی یا دینی، کسی بھی لحاظ سے بہتر ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کرے اور بالخصوص دوسروں کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کرے -

اگر آپ کو لگے کہ کسی کو کسی بھی معاملے میںآپ سے خار ہے، خاندانی، کاروباری، دفتری یا محلے داری کا تو اسے اپنے گھر سے اور گھر کے حالات سے دور رکھیں- کوشش کریں کہ وہ آپ کے گھر نہ آئے، آپ کے گھر میں وہ سہولتیں نہ دیکھے اور نہ ہی آپ کے گھر کے حالات کو جانے- آپ کی دولت، زیور، لباس، صلاحیتیں ، گاڑیاں، آپ کی فرمانبردار اولاد، آپ زوجین کا آپسیںحسن سلوک، آپ کے گھر کے کھانے، ملازمین، سلیقہ اور اخلاق- یہ سب دوسروں کو حسد میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں- جب تک یہ سب دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہے آپ ان کی سوچ کے فتنے اور حسد سے محفوظ رہتے ہیں، اپنے بچوں کو بھی بتائیں کہ اپنے گھر کے بارے میں نہ کسی کو بتائیں اور نہ دکھائیں-

کوئی آپ کو گزند نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ وہ آپ کے اور آپ کے گھر کے بارے میں تمام تفصیلات کو جانتا نہ ہو- آپ کے منصوبے تبھی ناکام ہو سکتے ہیں جب تک آپ انھیں قبل از وقت دوسروں کیساتھ شئیر نہ کریں، آپ کے مستقبل کے بارے میں منصوبے آپ کا اپنا راز ہیں، انھیں آپ خود ہی دوسروں کو بتاتے اور انھیں ان منصوبوں کو مسمار کرنے کا موقع دیتے ہیںیا آپ کو جان بوجھ کر ایسا غلط مشورہ دیں گے کہ جس سے نقصان کا احتمال ہو، اس سے ان کی حس حسد کو تسکین ملے گی- آپ کے خاندان کے بارے میں صرف وہ لوگ سازش کریں گے جو آپ کے ہاں کثرت سے آتے ہیں، جن پر آپ پورا اعتماد کرتے ہیں اور انھیں اپنے بچوں اور گھروں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں- مثا ل کے طورپر آپ نے انھیں بتایا کہ آپ کا فلاں بچہ آپ کی بات نہیں مان رہا ہے اور وہ کام کرنے کی ضد کررہا ہے جو اس کے حق میں نقصان دہ ہے-

وہ شخص حاسد ہے تو وہ آپ کے اور آپ کے بچے کے درمیان اختلاف کو ہوا دے گا تا کہ آپ دونوں کے بیچ خلیج پیدا ہو جائے- جس کام سے آپ اپنے بچے کومنع کررہے ہیں وہ اسے وہی کام کرنے پر مجبور کرے گا تا کہ آپ کے بچے کو تقصان ہو اور آپ کو اس کا دکھ ہو، اس کے جذبات کو سکون مل جائے گا- کوئی شخص اس وقت آپ کی کمزوریوں کو نہیںجان سکتا جب تک کہ آپ اسے خود نہ بتائیں یا وہ آپ کے بہت قریب نہ رہا ہو- قطع تعلقی نہ کریں مگر ہر رشتے، تعلق اور دوستی کی ایک حد ہوتی ہے- بسا اوقات بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ آپ کا ایسا راز ہیں جس کا کسی اور کو معلوم ہو جانا آپ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، وہ راز آپ کا قیدی ہے اور جب آپ کسی اور کو بتا دیتے ہیں تو آپ اپنے راز کے قیدی بن جاتے ہیں-

کبھی کبھار کوئی بات ایسی ہے جس کا آپ کے بچوں کے لیے بھی جاننا ضروری نہیں ہے تو انھیں بھی نہ بتائیں - اسی طرح اپنے قریبی عزیزوں کے لیے بھی ایک حد مقرر ہونا چاہیے کہ انھیں کس بات کا علم ہونا چاہیے اور کس کا نہیں- نہ آپ خود دوسروں سے کرید کرید کر باتیں دریافت کریں اور نہ کسی اور کو اجازت دیں کہ وہ آپ سے غیر ضروری سوالات کرے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے- مختصر بات، مختصر کال، مختصر بیانات سب سے بہتر ہیں کہ اس میں فضول گوئی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں اور انسان اپنے بارے میں خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر بات نہیں کرتا جو کہ دوسروں کو تکلیف دے - اپنی زندگی کے وہ گوشے کسی پر عیاںنہ کریں جو آپ کے بہت ذاتی ہیں، جانے کب وقت بدل جائے، دوست دشمنوں کی اور دشمن دوستوں کی صف میں کھڑے نظر آئیں - جو لوگ کبھی آپ کے لیے وہ حیثیت رکھتے ہیں جن کے بغیر جینا محال لگتا ہے، کبھی وہ سکون جان تھے وہ جان کا عذاب بن جاتے ہیں کیونکہ وہ آپ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور جب وہ آپ کے مخالف ہوتے ہیں تو وہ ان حاسدوں سے ہاتھ ملا لیتے ہیں جو ہمیشہ سے آپ کو برباد کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں-

اپنے گھر کو بری نظر اور حسد سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اتنا بے تکلف نہ ہونے دیں کہ وہ اس بے تکلفی میںبہت سی باتیں جان لے، آپ کا احترا م اور عزت کرنا چھوڑ دے، آپ کے اہم خانہ سے ایسی دوستی کرلے جسے آپ پسند نہ کریں- ان اہل خانہ کے ذریعے وہ آپ کے بارے میں معلومات جمع کر کے ان سے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، کوئی اور نقصان نہ بھی کرے مگر آپ کے اندرون خانہ حالات اسے آپ سے حسد میں مبتلا کردیں اور وہ آپ کو زبانی اور عملی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے- نہ وہ لکڑی بنیں جوخود بھی جلتی دوسروں کو جلاتی ہے، نہ وہ دیمک بنیں جولکڑی کو اندر ہی اندر کھاتی ہے اور جب اس کا علم ہوتا ہے تو وہ خود بھی تلف کر دی جاتی ہے-

حسد ایک ایسا کھٹمل ہے جو آپ کے بدن کو یوں غیر محسوس طریقے سے کاٹتا ہے کہ آپ کو درد اور جلن تو محسوس ہوتی ہے مگر آپ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کریں کہ اسے مار دیا جائے یا تلف کردیا جائے تو نہیں مل سکتا- تعلیم اور شعور ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ نہ حسد کریں اور نہ دوسروں کو خود سے حسد محسوس کروائیں- اپنی کسی خوبی یا ملکیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں کہ دوسروں کو اس کی کمی کا غم لگ جائے اور وہ آپ کے لیے بھی نقصان کی خواہش اوربد دعا کرنے لگیں - حسد کی آگ جلتی بھی ہے، حسد کرنیوالے کو بھی اور دوسروں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بارے میں کسی اور کو دوسروں کو آپ کے گھر محسوس ہو ہوتے ہیں دیتے ہیں وہ آپ کے کہ وہ آپ کریں کہ ہیں اور ہوتی ہے اور حسد اور آپ کے لیے اور اس بھی نہ ہیں تو ہے اور اور وہ گھر کے اور نہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی