Jasarat News:
2026-07-24@01:30:25 GMT

بجلی کمپنیوں کی نجکاری کے خلاف واپڈا ملازمین کا احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی فیصلے کے تحت ملک بھر کے واپڈا ملازمین نے منافع بخش بجلی کمپنیوں کی نجکاری، بھرتیوں اور دیگر مطالبات کے لیے پاکستان بھر میں احتجاج جلسے جلوس، دھرنے اور ریلیوں کا اہتمام کیا۔ اس حوالے سے پورے ملک کی طرح سندھ بھر میں احتجاج کیا گیا۔ سندھ کا مرکزی اجتماع صدرِیونین عبداللطیف نظامانی اور صوبائی سیکرٹری سندھ اقبال احمد خان کی قیادت میں حیدرآباد میں ہوا جس کی قیادت میں لیبر ہال سے ہزاروں واپڈا ملازمین مرد و خواتین نے عظیم الشان ریلی نکالی اور حیدر چوک پر دھرنا دیا۔ جس سے خطاب میں قائد مزدور عبداللطیف نظامانی نے کہا کہ یونین نے حکومت پاکستان کو 15جنوری تک مطالبات کی منظوری اور نجکاری کے خاتمے کے حوالے سے IRA-2012کے تحت نوٹس دیا ہے اگر مذکورہ تاریخ تک ہماری بات نہیں سنی گئی تو یونین ملک بھر کی بجلی کمپنیوں میں 16 جنوری سے کمپیوٹر اور بلنگ بند کرنے پر مجبور ہو گی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور وزارت توانائی پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (CBA)کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی حیسکو، واٹر ونگز، NGCPسے تعلق رکھنے والے ملازمین کی عظیم الشان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی کے دیگر قائدین میں صوبائی جوائنٹ سیکرٹری اعظم خان، صوبائی میڈیا کو آرڈنیٹر محمد حنیف خان، الادین قائمخانی، نور احمد نظامانی ، عابد شاہ، شعبہ خواتین کی چیئرپرسن ثروت جہاں و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ قائد مزدور نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یونین نے IRA-2012 کے تحت حکومت پاکستان کو نجکاری کے خلاف، ملازمین کی بھرتیوں اور دیگر مسائل کے حوالے سے نوٹس بھجوادیا ہے جس میں 16جنوری 2026ء ڈیڈ لائن دی گئی ہے، اگر مذکورہ تاریخ سے قبل حکومت نے یونین سے رابطہ نہ کیا تو یونین اپنا آئندہ لائحہ عمل پیش کرنے میں حق بجانب ہو گی۔ جن میں کمپیوٹر اور بلنگ کو بند کردیا جائے گا۔ کیونکہ ہم مسلسل احتجاج اور مطالبے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہماری بات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ملازمین اس مسئلے پر سخت مضطرب اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، لہٰذا نجکاری کا خاتمہ کرکے قومی اداروں کی اصلاحات کرکے انہیں فعال اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے دیا جائے۔ نجکاری کے تسلسل میں آج ہم ایک بار پھر اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کررہے ہیں۔ ہم حکومت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ بجلی کمپنیوں کے ملازمین اپنے ادارے کی نجکاری کی ہر گز ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ادارے میں 45فیصد ملازمین کی جگہیں خالی ہیں اس کے باوجود ہمارے ملازمین 100فیصد کام کرکے پروگریس کومسلسل بڑھارہے ہیں جس کی وجہ سے زیرولوڈشیڈنگ کا تصور پروان چڑھ رہا ہے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے ملازمین کو بھی پنجاب کی دیگر کمپنیوں کی طرح بونس دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئوٹ سورس ملازمین کی بھرتیوں اور ٹھیکیداری نظام کے تحت بھرتیوں کو بند کرکے ریگولر بنیادوں پر عام اور واپڈا ملازمین کے بچوں کو بھرتی کیا جائے، ہمارے ان ملازمین کو جو 16اسکیل میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں قانون کے تحت 17اسکیل میں ترقی دی جائے۔ ہم حیسکو انتظامیہ کے اس دوہرے رویے کی مذمت کرتے ہیں جس میں انہوں نے افسران کی ترقیاں تو کردیں لیکن ہمارے ملازمین کی ترقیاں اور اپ گریڈیشن ،نجکاری کمیشن سے مشروط کردیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے بھی 2012 اور 2017میں نجکاری کا خاتمہ کرایا لیکن حکومت ایک بار پھر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ایماء پر نجکاری کے لیے بضد ہے۔ آج ان اداروں کی نجکاری سے آغاز کیا جارہا ہے جو منافع بخش ہیں جن میں آئیسکو، فیسکو، گیپکوجبکہ دوسری جانب حکومت کہتی ہے کہ ہم نقصان زدہ محکموں کی نجکاری کررہے ہیں حکومت کا یہ دوہرا کردار ان کے عمل کی کھلی منافقت ہے۔ انہوں نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نجکاری کے مسئلے پر یونین کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر حصہ لیں کیونکہ نجکاری کے خطرات سے وہ بھی نہیں بچ سکیں گے۔ صوبائی سیکرٹری سندھ اقبال احمد خان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک بھر کی طرح سندھ کے چپے چپے میں واپڈا ملازمین سراپا احتجاج ہیں،میں اس کامیاب احتجاج کے انعقاد پر اور آج یہاں ہزاروں واپڈا ملازمین کی دھرنے میں شرکت پر انہیں زبردست خراج ِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

 

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واپڈا ملازمین بجلی کمپنیوں ملازمین کی کی نجکاری نجکاری کے انہوں نے کہا کہ کے تحت

پڑھیں:

مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش