Jasarat News:
2026-07-24@01:16:28 GMT

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ریٹائرڈملازمین کے مسائل

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے یونین کے صدر راجہ مسکین صاحب نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے کہ یوٹیلیٹی انتظامیہ Gratuity Trusty Account میں 3 ارب روپے پڑے ہیں اُس کو کیش کروا کر Daily Wages Enpolyees اور Contract Emplyees کو خوش کرنے کے لیے ادائیگی کردی جائے جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ یہ پیسہ Daily Wages/Contract Employees کو نہیں دیا جاسکتا۔ یہ پیسے Retired Regular Employees کی امانت ہے۔ Retired Employees انصاف کے لیے عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کے Board of Director’s نے گریجویٹی کی منظوری دی ہوئی ہے جس کے تحت 35 ریٹائر ملازمین کو ادائیگی کردی گئی تھی اور عدالتی فیصلوں پر مزید 35 افراد کو ادائیگی کردی گئی تھی وہ بھی 3 گنا جرمانہ کے ساتھ باقی ماندہ ریٹائر ملازمین کو یوٹیلیٹی انتظامیہ اور یونین انکاری ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کی انتظامیہ اور یونین کو اس غیر قانونی کام سے فوراً روکا جائے۔ جناب صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان فوراً اس غیر قانونی کارروائی کا نوٹس لیں اور حکم صادر فرمائیں کہ ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائوں کو فوری طور پر گریجویٹی کی ادائیگی کی جائے۔ یہ (Retired) Employees کا پیسہ ہے جو کہ ان کو ملنا چاہیے حکومت کو اپنے پاس سے کوئی Fund نہیں دینا۔ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے جو ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوٹیلیٹی اسٹورز

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش