یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ریٹائرڈملازمین کے مسائل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے یونین کے صدر راجہ مسکین صاحب نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے کہ یوٹیلیٹی انتظامیہ Gratuity Trusty Account میں 3 ارب روپے پڑے ہیں اُس کو کیش کروا کر Daily Wages Enpolyees اور Contract Emplyees کو خوش کرنے کے لیے ادائیگی کردی جائے جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ یہ پیسہ Daily Wages/Contract Employees کو نہیں دیا جاسکتا۔ یہ پیسے Retired Regular Employees کی امانت ہے۔ Retired Employees انصاف کے لیے عدالتوں میں گئے ہوئے ہیں۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کے Board of Director’s نے گریجویٹی کی منظوری دی ہوئی ہے جس کے تحت 35 ریٹائر ملازمین کو ادائیگی کردی گئی تھی اور عدالتی فیصلوں پر مزید 35 افراد کو ادائیگی کردی گئی تھی وہ بھی 3 گنا جرمانہ کے ساتھ باقی ماندہ ریٹائر ملازمین کو یوٹیلیٹی انتظامیہ اور یونین انکاری ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کی انتظامیہ اور یونین کو اس غیر قانونی کام سے فوراً روکا جائے۔ جناب صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان فوراً اس غیر قانونی کارروائی کا نوٹس لیں اور حکم صادر فرمائیں کہ ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائوں کو فوری طور پر گریجویٹی کی ادائیگی کی جائے۔ یہ (Retired) Employees کا پیسہ ہے جو کہ ان کو ملنا چاہیے حکومت کو اپنے پاس سے کوئی Fund نہیں دینا۔ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے جو ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوٹیلیٹی اسٹورز
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔