data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (صباح نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام پر 22 کھرب روپے سالانہ کی ’’گھوسٹ بجلی‘‘ کا ناقابلِ برداشت بوجھ لادا جا رہا ہے۔ یہ وہ بجلی ہے جو نہ پیدا ہوتی ہے، نہ استعمال ہوتی ہے مگر اس کے بل عوام کو بھرنے پڑتے ہیں۔ یہ سب کچھ نام نہاد کیپیسٹی چارجز کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ اسپتالوں اور گھوسٹ سرکاری ملازمین کے ساتھ اب گھوسٹ بجلی بھی نمودار ہو چکی ہے۔ اس مسلسل لوٹ مار کی پشت پناہی ریگولیٹر نیپرا خود کر رہا ہے۔ نیپرا عوام کی محافظ نہیں رہی، بلکہ آئی پی پیز کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ آئی پی پیز عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں اور مہنگی بجلی نے صنعت سمیت پوری معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ اب قومی سلامتی تک جا پہنچا ہے کیونکہ غیر معمولی مہنگائی ملک میں کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج کو جنم دے سکتی ہے۔ الطاف شکور نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اس خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔

خبر ایجنسی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان