پاکستان، ایران میں حالات جلد معمول پر آنے کیلیے پرامید
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان، ایران کی صورتحال کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے اور اس حوالے سے پرامید ہے کہ وہاں صورتحال جلد معمول پر آ جائیگی۔
ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرے ایران کا اندرونی مسئلہ ہے، ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، عدم استحکام اگر زیادہ عرصہ جاری رہا تو اس کے خطے پر اثرات ہونگے پاکستان اس سے متاثر ہونیوالے اولین ممالک میں سے ایک ہوگا۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ ایران میں عدم استحکام آنے سے سرحد پار تجارت میں رکاوٹ آئیگی، بلوچستان میں بارڈر مینجمنٹ میں مشکلات پیدا ہونگی اور مہاجرین کا دباؤ آئیگا۔
مزید پڑھیںاگر ملک پر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
ملک میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل ہیں، ایرانی صدر
ملک کے "قومی مفادات" کا دفاع کرنے کیلئے پر عزم ہیں، ایرانی فوج کا اعلان
امریکہ یا اسرائیل کی ایران میں مداخلت سے پاکستان کو پیچیدہ سفارتی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران میں استحکام برقرار رہے۔
ایک پاکستان سفارتکار نے کہا کہ پاکستان کی ایسی کوئی خواہش نہیں کہ ایران کمزور ہو۔افراتفری کی صورتحال سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتی، اس لئے پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران کا اندرونی بحران خطے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔
بین الاقوامی امور کے ایرانی نژاد ماہر محمد حسین باقری نے ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایران میں چار احتجاجی تحریکیں دیکھیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔