جماعت اسلامی ظلم کے خلاف مزاحمتی شاعری کی قدر کرتی ہے، اسامہ رضی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-08-23
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مزاحمتی شاعری کی قدر کرتی ہے۔ ہم شعرا کے ان جذبوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے میں جدوجہد کو مہمیز دے رہے ہیں اور نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر امید کا پیغام دے رہے ہیں۔ حبیب جالب کی طرح آج بھی شعرا ظلم، جبر اور ناانصافی کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی ضلع وسطی کے زیر اہتمام ناظم آباد ٹاؤن اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے اشتراک سے شبِ سخن کے عنوان سے دوسرے سالانہ فیملی مشاعرے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ اسامہ رضی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی معاشرے میں ظلم وزیادتی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے ساتھ ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب ناظم آباد عید گاہ گراؤنڈ میں فیملی مشاعرہ پروفیسر سحر انصاری کے زیر صدارت ہوا۔ ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طٰہٰ سلیم سمیت شہر کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ ناظم آباد ٹاؤن چیئرمین سید محمد مظفر اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن چیئرمین عاطف علی خان کی ٹیموں کی زبردست کاوشوں سے اور منتظم مشاعرہ عرفان معطر کے شاندار انتظامات نے تقریب کو یادگار بنا دیا۔ رات گئے تک جاری رہنے والے مشاعرے میں نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد سردی کے باوجود آخر تک حاضر رہی۔ ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا جس پر اہلِ کراچی نے کھل کر داد دی۔ اس موقع پر گلِ داؤدی کی خوبصورت نمائش بھی ہوئی۔ مشاعرے میں ان شعرا نے کلام پیش کیا، انور شعور، خالد عرفان، فرحت عباس شاہ، عنبرین حسیب عنبر، خلیل اللہ فاروقی، نجیب ایوبی، علا الدین خانزادہ، جاوید صبا، رخسانہ صبا، فاضل جمیلی، عمیر نجمی، عمار اقبال، عمران عامی، رحمان فارس، عبد الحکیم ناصف اور دیگر۔ اس موقع پر گراؤنڈ میں اسٹالوں پر خریداروں کا بھی ہجوم رہا۔
جماعت اسلامی ضلع وسطی کا دوسرا سالانہ فیملی مشاعرہ ’’شب سخن‘‘پروفیسر سحر انصاری کی زیرصدارت ہورہا ہے۔ مرکزی نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی بطور مہمان خصوصی شریک ہیں۔شعرا اپنا کلام پیش کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناظم ا باد ٹاو ن جماعت اسلامی رہے ہیں
پڑھیں:
ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا
مطالبہ کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔
اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25
— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔
’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،
خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری
عائد ہوتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان
نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026
’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی
تباہی پر فخر کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی
کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ