ڈائریکٹر ریجنل محتسب کا ہیلتھ سینٹر کا دورہ،8 ملازمین غیر حاضر
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260112-05-18
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)ہوسٹری رورل ہیلتھ سنٹر کا ڈائریکٹر ریجنل محتسب حیدرآبادکا دورہ آٹھ ملازمین غیر حاضر ادویات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق ریجنل ڈائریکٹر محتسب سندھ حیدرآباد ریجن سید محمد سجاد حیدر نے رورل ہیلتھ سینٹر ہوسڑی کا میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارجن کمار کے ساتھ دورہ کر کے سینٹر میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں، عملے کی حاضری ادویات کی دستیابی اور مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا انھوں نے حاضری رجسٹر اور ادویات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور سنٹر کا معائنہ کیا اس دوران میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فہیم قریشی کو اسپتال سے غیر حاضر پایا گیاحاضری رجسٹر کے مطابق رورل ہیلتھ سینٹر میں مجموعی طور پر 16ملازمین تعنیات ہیں لیکن دورے کے وقت صرف 8 ملازمین کی حاضری درج تھی اس موقع پر محتسب حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر سید محمد سجاد حیدرکو میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارجن کمار نے رورل ہیلتھ سنٹر میں فراہم کی جانے والی سہولتوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس رورل ہیلتھ سینٹر اطراف کے میں تقریباً 10 چھوٹے بڑے دیہاتوں موجود ہیں اور انھیں اس کے زریعے طبی سہولتیں فراہم کی جارہیں ہیں جن کی مجموعی آبادی تقریباً 40 ہزار افراد پر مشتمل ہے انہوں نے بتایا کہ قریبی علاقوں میں کسی اور طبی سہولتوں کی عدم موجودگی کے باعث ہیڈ آفس پی پی ایچ آئی کی طرف سے فراہم کی جانے والی ادو یات ناکافی ہیں انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ سینٹر میں روزانہ صبح کے اوقات میں 6 گھنٹے مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے اور دستیاب ادویہ فراہم کی جاتی ہیں جبکہ 24 گھنٹے صرف نارمل ڈیلیوری کی سہولت دستیاب ہے انہوں نے فارمیسی اور اسٹور کا بھی معائنہ کیا اور ادویہ کی دستیابی، اسٹاک کی صورت حال سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فراہم کی جانے والی ہیلتھ سینٹر رورل ہیلتھ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔