دو قومی نظریہ: جسے ڈبویا نہ جا سکا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جہاں اہل ِ ایمان صورتِ خورشید ہوتے ہیں۔ ڈوبتے ہیں تو پھر طلوع ہوتے ہیں، اور ہر بار پہلے سے زیادہ آب و تاب کے ساتھ۔ دو قومی نظریے کے مخالفین نے 1971 کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ اس فکر کو بحرِ ہند میں غرق کر دیا گیا ہے، مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ نظریات کو سمندروں میں نہیں ڈبویا جا سکتا۔ آج اسی زندہ نظریے کی ایک درخشاں مثال ڈھاکا کی جگن ناتھ یونیورسٹی میں سامنے آئی ہے، جہاں تمام تر دباؤ، نظریاتی یلغار اور منظم سازشوں کے باوجود اسلام پر مر مٹنے والے اسلامی چھاترو شبر کے نوجوانوں نے طلبہ یونین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ فتح محض ایک تعلیمی ادارے کا انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام پسند سیاست بنگلا دیش میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ نئی نسل میں ازسرِ نو منظم ہو رہی ہے۔ یہ کامیابی صرف جماعت اسلامی کے کارکنان کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل ِ اسلام کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔ اسی پس منظر میں فروری 2026 کے عام انتخابات سے قبل بنگلا دیش کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے ایک نئے سانچے میں ڈھل رہا ہے۔ پندرہ برس تک بلا شرکت ِ غیرے اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کے زوال کے بعد ملک ایک ایسے عبوری سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پرانی طاقتیں اپنی گرفت کھو رہی ہیں اور نئے اتحاد غیر متوقع رفتار سے ابھر رہے ہیں۔ یہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی سیاست کی سمت، مزاج اور طاقت کے توازن کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں سب سے نمایاں حقیقت بنگلا دیش جماعت اسلامی کا مرکزی کردار ہے، جو ایک طویل عرصے تک ریاستی جبر، سیاسی تنہائی اور بیانیاتی محاصرے کا شکار رہی، مگر اب ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) اور نوجوانوں کی قیادت میں وجود میں آنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی
(NCP) کی شمولیت نے پورے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض جماعتوں کا عددی اضافہ نہیں بلکہ بنگلا دیش کی سیاست میں طاقت کے محور کی تبدیلی کا واضح اعلان ہے۔
ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کی پریس کانفرنس دراصل اسی نئے دور کا علامتی اظہار تھی۔ ان کے مطابق تین سو پارلیمانی حلقوں کے لیے امیدواروں کی فہرست تقریباً مکمل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اتحاد وقتی نہیں بلکہ منظم، سوچا سمجھا اور طویل المدتی سیاسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس اتحاد کی تزویراتی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب کرنل (ر) اولی احمد کی قیادت والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی بھی اس کا حصہ بن گئی۔ کرنل (ر) اولی احمد محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہیں۔ وہ ضیاء الرحمن کے قریبی ساتھی، بی این پی کے بانی اراکین میں شامل اور 2006 میں کرپشن، خاندان پرستی اور سیاسی انحراف کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بی این پی سے علٰیحدہ ہوئے تھے۔ ان کی سیاسی ساکھ ایک دیانتدار، اصول پسند اور اسٹیبلشمنٹ سے فاصلے پر رہنے والے سیاستدان کی ہے۔ ان کا جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑا ہونا دراصل بی این پی کے اندرونی زوال، اخلاقی بحران اور نظریاتی کھوکھلا پن پر ایک خاموش مگر گہرا تبصرہ ہے۔ خاص طور پر چٹاگانگ کے علاقے میں اولی احمد کا مخصوص ووٹ بینک اس اتحاد کو زمینی سطح پر بھی تقویت دیتا ہے۔ تاہم اس اتحاد میں سب سے زیادہ سیاسی ہلچل نیشنل سٹیزن پارٹی کی شمولیت نے مچائی ہے۔ جولائی 2024 کی عوامی احتجاجی تحریک کے بطن سے جنم لینے والی یہ جماعت نوجوانوں، طلبہ اور شہری متوسط طبقے کی امیدوں کی نمائندہ بن کر ابھری۔ پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام عبوری حکومت میں مشیر بھی رہ چکے ہیں اور مختلف سرویز کے مطابق اس جماعت کو ملک کے تقریباً دس فی صد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔
اگرچہ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد پر این سی پی کے اندر اختلافات سامنے آئے اور دو نمایاں خواتین رہنماؤں ڈاکٹر تسنیم زارا اور تجنوا جبین نے اپنے عہدوں سے استعفا دے دیا، مگر یہ اختلافات کسی بھی ابھرتی ہوئی جماعت کے لیے غیر معمولی نہیں۔ ڈاکٹر تسنیم زارا کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان سیاسی اصول پسندی کی علامت ہو سکتا ہے، مگر ناہید اسلام کا مؤقف زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی نظام میں اکیلے الیکشن لڑنا اور غیر تجربہ کار تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ عوامی حمایت کو ووٹ میں تبدیل کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ اتحاد نظریاتی کم اور انتخابی حکمت ِ عملی زیادہ ہے۔
دوسری جانب بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے لیے یہ نیا بنگلا دیش مسلسل مشکلات کا پیغام بن چکا ہے۔ اگرچہ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمن سترہ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں، مگر پارٹی کی ساکھ بھتا خوری، قبضہ مافیا اور مقامی سطح پر بدعنوانی کے سنگین الزامات کی زد میں ہے۔ جولائی انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں بی این پی کے کارکنوں پر لگنے والے الزامات نے پارٹی کی اخلاقی برتری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلا دیش کے مطابق 41 فی صد شہریوں کا ماننا ہے کہ عوامی لیگ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھتا خوری کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، اور اس کے ذمے دار بی این پی کے مقامی رہنما ہیں۔ یہاں تک کہ پارٹی کے سینئر رہنما مرزا عباس کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ بی این پی کا نام بھتا خوری کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اسی سیاسی انتشار کے دوران 30 دسمبر 2025 کو بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کا انتقال ایک عہد کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ وہ واحد شخصیت تھیں جو پارٹی کے تمام دھڑوں کو ایک مرکز پر جمع رکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد بی این پی تنظیمی اور نظریاتی طور پر یتیم ہو
چکی ہے۔ اب پارٹی کی قیادت مکمل طور پر طارق رحمن کے ہاتھ میں ہے، مگر یہ منتقلی ہموار نہیں۔ پارٹی کے اندر ایک طاقتور موروثیت مخالف دھڑا کھل کر سامنے آ رہا ہے، جو ضیا خاندان کی سیاسی اجارہ داری کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگرچہ طارق رحمن کا تنظیمی نیٹ ورک مضبوط ہے، مگر ان کا ماضی کرپشن، منی لانڈرنگ اور سیاسی تشدد کے الزامات ان کے لیے ایک مستقل بوجھ بنا ہوا ہے۔ اس پر مستزاد بھارت کی مبینہ حمایت، جو بی این پی کے روایتی قوم پرست ووٹ بینک میں شدید بداعتمادی کو جنم دے رہی ہے۔ اعداد و شمار بھی اس بدلتی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ حالیہ پولز کے مطابق بی این پی 30 فی صد مقبولیت کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، مگر جماعت اسلامی 26 سے 29 فی صد کے ساتھ خطرناک حد تک قریب آ چکی ہے۔ این سی پی اور ایل ڈی پی کی شمولیت کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد مجموعی طور پر بی این پی سے آگے نظر آتا ہے۔ اسی تناظر میں تناسبی نمائندگی (Proportional Representation) کا مطالبہ فیصلہ کن سیاسی محاذ بن چکا ہے۔ اگر یہ نظام نافذ ہو گیا تو جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد پارلیمنٹ میں کنگ میکر بن سکتا ہے، جس کے بغیر کوئی حکومت ممکن نہیں ہوگی۔ یوں بنگلا دیش آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں مستقبل کا فیصلہ محض ووٹوں سے نہیں بلکہ نظریات، اتحادوں اور عوامی اعتماد سے ہوگا۔ جگن ناتھ یونیورسٹی کے طلبہ انتخابات سے لے کر قومی سیاست تک، یہ پیغام واضح ہے کہ جن قوتوں کو تاریخ کا حصہ سمجھ لیا گیا تھا، وہ ایک بار پھر مستقبل کی سمت متعین کرنے آ رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کی قیادت میں بی این پی کے بنگلا دیش نہیں بلکہ پارٹی کی پارٹی کے کے مطابق کے ساتھ کے بعد رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔