اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.59 ارب ڈالر رہا۔

واضح رپے کہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 16.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ رقم 3.1 ارب ڈالر تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ونٹر اکانومی، بلوچستان کی خوبصورت وادیاں ملکی معیشت کے لیے کتنی اہم؟

مالی سال 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر 19.

7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 17.8 ارب ڈالر تھیں، یوں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کیا ترسیلاتِ زر میں اضافہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم بنا سکتا ہے اور ذخائر میں بہتری کو کس حد تک مثبت معاشی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر اور سینیئر صحافی شہباز رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح وقتی ریلیف ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مکمل معاشی استحکام کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر اب بھی محدود ہیں، جو بمشکل 3 سے 4 ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا

شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ذخائر میں حالیہ بہتری کی بنیادی وجوہات بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مقامی مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری ہیں۔ ان کے مطابق برآمدات میں اب تک وہ خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر ضرورت ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور نئے قرضوں کی آمد بھی محدود رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی نے معیشت کو سہارا ضرور دیا ہے اور فوری ڈیفالٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں، تاہم حکومت کو مکمل اطمینان کے بجائے محتاط حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً برآمدات اور پیداواری شعبے میں اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہر راجہ کامران زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ذخائر میں بہتری کی سب سے بڑی وجہ ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ہے، جو رواں مالی سال میں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں کے باعث پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن، عالمی سطح پر پیشرفت کا اعتراف

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 سے ڈھائی سال کے دوران روپے کا نسبتاً مستحکم رہنا معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی مالی معاونت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری نے بھی ذخائر کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دانستہ طور پر روپے کو ایک متوازن حد میں رکھا ہوا ہے تاکہ نہ تو یہ غیر ضروری طور پر مضبوط ہو اور نہ ہی زیادہ کمزور، کیونکہ دونوں صورتیں برآمدات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق دوست ممالک کے ساتھ موجود مالی ڈپازٹس کو اثاثوں میں تبدیل کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، جس سے آئندہ برسوں میں قرضوں کے رول اوور کا دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔

راجہ کامران کے مطابق اگرچہ پاکستان کا بیرونی قرض بڑھ چکا ہے، مگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو کئی ممالک اس سے کہیں زیادہ قرض کے بوجھ کے ساتھ مستحکم معیشت چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو بڑی حد تک کنٹرول کر لیا ہے اور دفاعی برآمدات سمیت دیگر شعبوں میں بہتری سے آئندہ چند برسوں میں زرِ مبادلہ کی آمدن مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ

معاشی ماہر ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں حالیہ بہتری کو محض اعداد و شمار تک محدود کرنا درست نہیں، بلکہ اسے معاشی پالیسی کے درست سمت میں بڑھتے قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیشت آہستہ آہستہ قلیل مدتی سہاروں کے بجائے پائیدار اور اندرونی زرِ مبادلہ کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق اگرچہ برآمدات کی رفتار ابھی سست ہے، مگر درآمدات میں نظم و ضبط، توانائی کے بہتر انتظام اور غیر ضروری درآمدی اخراجات میں کمی نے کرنٹ اکاؤنٹ کو قابلِ انتظام سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ذخائر میں اضافہ بغیر کسی بڑے مالی جھٹکے کے ممکن ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق آئی ٹی برآمدات، فری لانسرز اور ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے آنے والا زرِ مبادلہ بھی ایک اہم اور مستحکم ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور بینکنگ چینلز کو آسان بنانے کی پالیسیاں آنے والے برسوں میں ذخائر کو مزید مضبوط کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے: معاشی اعداد و شمار میں استحکام، پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر  16 ملین ڈالر سے زیادہ ہوگئے

ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ ذخائر میں حالیہ بہتری کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے مارکیٹ میں نفسیاتی استحکام اور اعتماد پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ ان کے مطابق خام مال کی بہتر دستیابی سے صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتری اور برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر توجہ دے، تو موجودہ زرِ مبادلہ کے ذخائر آئندہ چند برسوں میں معیشت کی بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیٹ بینک اقتصادیات زر مبادلہ معیشت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اقتصادیات زر مبادلہ مبادلہ کے ذخائر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زر ان کے مطابق اسٹیٹ بینک ان کا کہنا کی جانب سے معیشت کو ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف