قوم کے محکومیت قبول نہ کرنے کے فیصلے سے جبر ختم ہو جائے گا: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی (نیٹ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ سلمان اکرم راجا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان محمد زبیر اور دیگر رہنماؤں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے وہیں خود حکومتی رپورٹس میں عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے اور غربت میں اضافے کے اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں محمد زبیر نے کہا کہ سرکاری سروے کے مطابق 80 فیصد عوام کا طرزِ زندگی خراب اور 23 فیصد شہری آبادی کی آمدن اور معیارِ زندگی نیچے چلا گیا ہے۔ پارلیمان، الیکشن کمشن اور عدلیہ کو کنٹرول میں لے کر بھی معیشت بہتر نہیں کی جا سکی۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہو گئی۔ جو اس ادارے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ امریکا اور مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ ملک میں قانون کی بالادستی موجود نہیں۔ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے قبل بین الاقوامی عدالتوں میں مصالحت کا حق مانگ رہے ہیں۔ محمد زبیر نے کہا کہ نیب کی جانب سے 5300 ارب روپے کی ریکوری کے دعوؤں کی وضاحت کی جائے کہ یہ رقم کس سے وصول کی گئی اور کن افراد کو سزا دی گئی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کو اصولی طور پر سپورٹ کرتے ہیں لیکن اس عمل میں شفافیت اور ورکرز کے حقوق پر سنگین سوالات موجود ہیں۔ سرکاری اداروں کو تباہ کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔ عدالت اور پارلیمان محض ڈھکوسلہ بن چکے ہیں اور ملک عملی طور پر ایک جیل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری سلمان اکرم نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور