ایران کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں مرنے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
تہران: ایران نے امریکا اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کے دوران مرنے والوں کی یاد میں ملک بھر میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی انقلاب کے حق میں آج دوپہر تہران کے انقلاب اسکوائر میں ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بدامنی کے دوران ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا الزام ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایران میں فسادات کروا رہے ہیں۔
صدر پزشکیان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فسادی عناصر اور دہشت گردوں سے خود کو دور رکھیں اور انہیں انتشار پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انصاف کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو اس پر یقین رکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 490 تک پہنچ چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکا اور ایران میں
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔