ایران، پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ایران، پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
تہران:(آئی پی ایس) ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق دو ہفتوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے
کے مطابق امریکا میں قائم حقوق انسانی تنظیم ایچ آر اے این اے کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں اب تک 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں جبکہ 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
یہ ایران میں 2022 کے بعد سب سے بڑے اور شدید ترین مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران نے تاحال ہلاکتوں کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی جبکہ غیر ملکی میڈیا آزادانہ تصدیق سے قاصر ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے حق میں مداخلت کے اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی فورسز نے طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں، خفیہ سائبر ہتھیاروں کے استعمال، سخت پابندیوں اور حکومت مخالف عناصر کو آن لائن مدد فراہم کرنے جیسے آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔
گزشتہ شب ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ فوج اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور ہمارے پاس بہت سخت آپشنز موجود ہیں۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں اور یہ کہ ایران کی قیادت نے ہفتے کے روز ان سے رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کی جانب سے ردعمل انتہائی سخت سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غلط اندازے کی قیمت بھاری ہو گی۔
قالیباف کے مطابق اگر ایران پر حملہ ہوا تو اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا ایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا جدہ ،اسحاق ڈار سے بنگلا دیشی مشیرکی ملاقات ، باہمی امور پر تبادلہ خیال نومئی واقعات، ڈھائی سال بعد غیرمصدقہ ویڈیوز کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، تیمور سلیم جھگڑا کا سخت ردعمل صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب کرلیا خیبرپختونخوا، سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، فتنہ الخوارج کے3دہشتگرد ہلاک چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمدکی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے پاکستانی ڈائسپورا ممبران اور طلبا کے ساتھ ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہلاکتوں کی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔