ایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے معاملے پر وہ ارب پتی کاروباری ایلون مسک سے بھی بات کریں گے، کیونکہ اس شعبے میں ان کی کمپنی کو مہارت حاصل ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران نے حال ہی میں جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے اور امریکا اس حوالے سے ملاقات پر بھی غور کر سکتا ہے، تاہم ساتھ ہی مختلف آپشنز، بشمول فوجی کارروائی، زیر غور ہیں۔
مزید پڑھیںاگر ملک پر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
ایران پر حملہ؟ ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے تیار ہے، صدر ٹرمپ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر آپریشنز اور نئی پابندیاں لگانے کے آپشنز بھی زیر بحث ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ ایران سے متعلق حکمت عملی پر غور کے لیے منگل کے روز اپنے سینیئر مشیروں سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ ایران نے اتوار کے روز امریکا کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران میں گزشتہ 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔