جیل میں ڈکی بھائی نے کیا سیکھا؟ زندگی بدل دینے والے تجربات کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پاکستان کے مقبول ترین ڈیجیٹل کری ایٹر اور یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے جیل میں زندگی بدل دینے والے تجربات کا انکشاف کردیا۔
ڈکی بھائی اس وقت یوٹیوب پر 90 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے پاکستانی یوٹیوبر ہیں۔ حال ہی میں ڈکی بھائی نے اپنی زندگی کے ایک مشکل ترین دور کا سامنا کیا جب ایف آئی اے نے انہیں گرفتار کیا، ان کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور رقم ضبط کر لی گئی، ڈکی بھائی تین ماہ جیل میں گزارنے کے بعد اب واپس گھر پہنچ چکے ہیں۔
حال ہی میں ڈکی بھائی نے ایک خصوصی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے جیل میں گزارے گئے تین ماہ اور اس دوران سیکھے گئے اہم اسباق پر کھل کر بات کی۔
ڈکی بھائی نے اپنی مذہبی تبدیلی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل جانے کے بعد میں بدل گیا ہوں، جیل سے پہلے میں اکثر نمازیں چھوڑ دیتا تھا، لیکن جس دن مجھے گرفتار کیا گیا، اس دن کے بعد میں نے ایک بھی نماز قضا نہیں کی، مجھے لگتا ہے یہ وقت مجھے دینی طور پر بدلنے کے لیے آیا تھا، شاید اللّٰہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ میں ان کے قریب ہو جاؤں، میں نے اچھے دنوں میں اللّٰہ کو یاد نہیں رکھا، جو میری خود غرضی تھی۔
انہوں نے جیل میں اپنی صحت اور خوراک کے بارے میں بھی گفتگو کی اور بتایا کہ جیل میں سادہ گندم کی روٹی کھائی جس کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا، فاسٹ فوڈ جیسے برگر وغیرہ کی طلب تو ہوتی تھی، لیکن سادہ خوراک نے مجھے صحت مند رکھا۔
سوشل میڈیا شہرت پر ڈکی بھائی نے کہا کہ جیل جانے سے پہلے تنازعات مجھے متاثر نہیں کرتے تھے کیونکہ میں جانتا تھا کہ چند دن میں سب کچھ ختم ہو جائے گا، تاہم جیل کے بعد میرا نقطۂ نظر بدل چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب میں سوشل میڈیا کو پہلے کی طرح نہیں دیکھتا اور صرف اپنے مداحوں کی خاطر یہ کام جاری رکھے ہوئے ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے فینز میرا انتظار کرتے ہیں۔
انٹرویو کے اختتام پر ڈکی بھائی نے دیگر یوٹیوبرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام یوٹیوبرز سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، جیسے مجھ سے ہوئیں، جیل کے بعد میرا مشورہ یہی ہے کہ کوئی بھی مواد اپ لوڈ کرنے سے پہلے ضرور کسی کو دکھائیں اور چیک کروائیں، انٹرنیٹ پر ڈالنے سے پہلے احتیاط بہت ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی نے جیل میں سے پہلے کے بعد
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی