data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کا موجودہ معاشی پالیسی فریم ورک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک دیرینہ ساختی مسائل کو دور کرنے اور معاشی نمو کو بحال کرنے کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

اس سلسلے میں اہم اقدامات میں شوگر سیکٹر کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں شامل ہیں۔

شوگر سیکٹر طویل عرصے سے حکومتی مداخلت کا مرکز رہا ہے، جہاں گنے کی سرکاری قیمتیں، درآمد و برآمد پر پابندیاں، ذخائر کی نگرانی اور سبسڈیز معمول کا حصہ تھیں۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق گنے کی پیداوار میں شدید اتار چڑھاؤ ہوا، جس سے چینی کی قلت، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور قومی خزانے پر بوجھ پیدا ہوا۔ ڈی ریگولیشن کے ذریعے حکومت مارکیٹ کے اشاروں کو پیداوار اور قیمتوں کے تعین میں مؤثر بنانا چاہتی ہے اور برآمدات میں نرمی اور انتظامی کنٹرول میں کمی کی جارہی ہے۔

زرعی اصلاحات کا مقصد صرف شوگر سیکٹر تک محدود نہیں بلکہ ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 20.

9 فیصد حصہ فراہم کرنے والے زرعی شعبے کے وسیع تر فروغ سے بھی متعلق ہے، جو 38.5 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ حکومت اب پراسیسڈ فوڈ، باغبانی، گوشت، ڈیری اور خصوصی فصلوں کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 24 میں زرعی برآمدات بڑھ کر 3.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، اور غیر ملکی سرمایہ کاری اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر شوگر سیکٹر، زرعی برآمدات اور ایف ڈی آئی سے متعلق اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر بنانے، بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شوگر سیکٹر برا مدات

پڑھیں:

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ  وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل