Juraat:
2026-07-24@05:04:45 GMT

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے
صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے، بی وائی سی فتنہ الہندوستان کے لئیے بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بی وائی سی سے متعلق یہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، بی وائی سی کے حوالے سے موقف کی توثیق اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد سے بھی ہو چکی ہے۔مارچ 2025، جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتباہ کیا تھا کہ؛ بلوچستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سپورٹ کے لئیے ان پراکسیز کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں ہسپتالوں سے ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، اس واقعے کو ذرائع ابلاغ نے بھی نمایاں طور پر رپورٹ کرتے ہوئے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا۔دہشت گردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر “لاپتہ افراد” کے بیانیے میں شامل کر کے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے۔23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ؛ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت مبینہ طور پر دہشت گرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو منظم انداز میں بطور ہتھیاراستعمال کیا جاتا ہے۔گذشتہ دنوں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا۔ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق؛ ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری یافتہ ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں بطور لیکچرار تعینات رہا۔ ساجد احمد، بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور اس کی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں ملوث تھا۔گرفتار دہشت گرد ساجد احمد نے اعترافی بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی سے اپنے روابط کا اعتراف بھی کیا، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید تین سہولت کاروں کی گرفتاری کی تصدیق بھی کی۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ انٹیلی جنس سہولت کاری یا دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہر فرد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے، ان سہولت کاروں میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ سرفراز کو سب سے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا، جہاں اس نے تنظیم کے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں سرگرم کردار ادا کیا، سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان (عمر 20 سال) نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے کے دوران مارا گیا تھا، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان بارہا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کو استعمال نہیں کرتا، تاہم شواہد اس کے برعکس ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کو نابالغوں کی ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ بعد ازاں انہیں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، ان مراکز میں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کا نام نہاد حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے جو دہشت گرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ بی وائی سی کی بین الاقوامی سطح خصوصاً یورپ میں پرپیگنڈا تشہیر بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے، مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس کا واقعہ، مارچ، مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر کام کرنے کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان بی وائی سی کر رہی ہے کے طور پر کے مطابق جاتا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار