Juraat:
2026-06-02@22:30:02 GMT

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے
صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے، بی وائی سی فتنہ الہندوستان کے لئیے بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بی وائی سی سے متعلق یہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، بی وائی سی کے حوالے سے موقف کی توثیق اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد سے بھی ہو چکی ہے۔مارچ 2025، جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتباہ کیا تھا کہ؛ بلوچستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سپورٹ کے لئیے ان پراکسیز کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں ہسپتالوں سے ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، اس واقعے کو ذرائع ابلاغ نے بھی نمایاں طور پر رپورٹ کرتے ہوئے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا۔دہشت گردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر “لاپتہ افراد” کے بیانیے میں شامل کر کے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے۔23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ؛ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت مبینہ طور پر دہشت گرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو منظم انداز میں بطور ہتھیاراستعمال کیا جاتا ہے۔گذشتہ دنوں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا۔ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق؛ ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری یافتہ ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں بطور لیکچرار تعینات رہا۔ ساجد احمد، بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور اس کی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق برقرار رکھتے ہوئے بیک وقت دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں ملوث تھا۔گرفتار دہشت گرد ساجد احمد نے اعترافی بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی سے اپنے روابط کا اعتراف بھی کیا، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید تین سہولت کاروں کی گرفتاری کی تصدیق بھی کی۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ انٹیلی جنس سہولت کاری یا دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہر فرد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے، ان سہولت کاروں میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ سرفراز کو سب سے پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا، جہاں اس نے تنظیم کے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں سرگرم کردار ادا کیا، سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان (عمر 20 سال) نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے کے دوران مارا گیا تھا، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان بارہا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کو استعمال نہیں کرتا، تاہم شواہد اس کے برعکس ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کو نابالغوں کی ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ بعد ازاں انہیں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، ان مراکز میں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کا نام نہاد حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے جو دہشت گرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ بی وائی سی کی بین الاقوامی سطح خصوصاً یورپ میں پرپیگنڈا تشہیر بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے، مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس کا واقعہ، مارچ، مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر کام کرنے کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان بی وائی سی کر رہی ہے کے طور پر کے مطابق جاتا ہے

پڑھیں:

شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔

واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان