طالبان دور میں انسانی بحران سنگین، خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں غربت، بے روزگاری اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
سماجی کارکن اور صحافی جہانزیب ویسا کے مطابق شدید غربت کے باعث بعض افغان خواتین زندہ رہنے کے لیے انتہائی مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے اور امداد کی کمی کے باعث کئی خاندان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔
ایک افغان خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بیماری اور غربت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں اور ان کے پاس نہ مستقل روزگار ہے اور نہ کوئی سہارا۔ ان کے مطابق حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ بعض اوقات وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں انتہائی تکلیف دہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
مزید پڑھیںطالبان رجیم کیلیے 2025 عالمی تنہائی کا سال رہا
جہانزیب ویسا کا کہنا ہے کہ طالبان دور میں بے روزگاری اور آزادیِ اظہار کی کمی نے نوجوانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں ایک افغان نوجوان شدید سردی میں ایران اور ترکی کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔
دوسری جانب برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایلس میکڈونلڈ نے افغان خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے پر عالمی برادری سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کو نظر انداز کرنا ایک سنگین اخلاقی ناکامی کے مترادف ہے۔
ایلس میکڈونلڈ کے مطابق طالبان حکومت کے تحت کم عمر اور بالغ خواتین کی موجودہ صورتحال نہایت تشویشناک اور تباہ کن ہے، جس پر عالمی سطح پر مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔