خیبر پختونخوا حکومت کا ضم اضلاع میں سولر منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے ضم اضلاع میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بڑے سولر منصوبے کے آغاز کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سات اضلاع میں محسود سولر منصوبہ شروع کیا جائے گا، جس کا مقصد عوام کو بجلی کی بنیادی سہولت فراہم کرنا ہے۔
پشاور سے نمائندہ ذیشان کاگل کے مطابق خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (KPEDO) نے اس منصوبے کے لیے باقاعدہ پریزنٹیشن تیار کر لی ہے۔ منصوبہ خیبر، کرم، باجوڑ، مہمند، اورکزئی سمیت دیگر ضم اضلاع میں شروع کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ان اضلاع میں عوام کو دو کلو واٹ کے سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار صارفین کو یہ سولر سسٹمز دیے جائیں گے۔ ہر سسٹم میں سولر پینلز، انورٹر اور دیگر ضروری آلات شامل ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 13 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ منصوبے کا مقصد ضم اضلاع کے عوام کو درپیش بجلی کے شدید مسائل کو کم کرنا اور توانائی کی متبادل سہولت فراہم کرنا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اے آئی پی پروگرام کے تحت جلد شروع کیا جائے گا تاکہ ضم اضلاع میں رہنے والے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور انہیں پائیدار توانائی کی سہولت میسر آ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ضم اضلاع میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔