ایف بی آر میں اصلاحات، بڑے ٹیکس دہندگان کی جوریڈکشن تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کلیم اختر: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اپنے نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی بڑی کمپنیوں کی جوریڈکشن مختلف ٹیکس دفاتر میں منتقل کر دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اور ٹیکس نظام کی شفافیت و کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 382 ٹیکس کیسز کی دائرہ اختیار میں تبدیلی کی گئی ہے، جن میں میٹل، توانائی، تعلیم، فارماسیوٹیکل، فوڈ، کنسٹرکشن اور آئی ٹی سیکٹر کی کمپنیاں شامل ہیں۔
بھارت کا بڑا کرکٹر زخمی ، نیوزی لینڈ سیریز سے آؤٹ،متبادل کون؟
یہ منتقلی انکم ٹیکس آرڈیننس اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت کی گئی، اور تمام کیسز کے ساتھ متعلقہ ضروری معلومات بھی نئے متعلقہ ٹیکس دفاتر کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انتظامی بہتری اور مؤثر ٹیکس نگرانی کے لیے کیے جا رہے ہیں، جس سے ٹیکس میں چوری کے امکانات کم ہوں گے اور بڑے ٹیکس دہندگان کے معاملات مزید شفاف انداز میں نمٹائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔