متنازع ٹویٹ کیس :عدالت نے ایمان مزاری کو ریلیف دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سٹی42: متنازع ٹویٹ کیس میں عدالت نے سابق رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو ریلیف دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پرسماعت کی، ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایمان مزاری پیش نہیں ہوئیں۔
دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ ایمان مزاری کو 104 بخار ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں، انہیں خود بھی بخار ہے لیکن وہ اس لئے عدالت آئے ہیں تاکہ یہ نہ لگے کہ وہ بہانہ کر رہے ہیں۔
جج محمد افضل مجوکہ نے ہدایت دی کہ ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی جائے، جس کے بعد عدالت نے تحریری درخواست آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔
بھارت کا بڑا کرکٹر زخمی ، نیوزی لینڈ سیریز سے آؤٹ،متبادل کون؟
وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی تحریری درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا، بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 متنازع ٹویٹ کیس کہ ایمان مزاری ہادی علی چٹھہ عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔