اسلام آباد میں گیس سلینڈر دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سیون ٹو میں گیس لیکیج دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے جس کے مطابق دھماکا بظاہر گیس لیکج کے باعث ہوا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 3 مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے اور 2 مکانوں کو نقصان پہنچا۔
ذرئع کے مطابق حادثے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، 2 زخمیوں کو سی ڈی اے اسپتال جبکہ 6 کو پمز منتقل کیا گیا، زیادہ تر لوگ ملبے تلے دبنے اور جھلسنے سے فوت ہوئے۔
پولیس کے مطابق لاشیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گیس پائپ لائن، گیس کنکشنز کے سیمپل اکٹھے کرلیے گئے، صبح 7 بجکر 19 منٹ پر واقعہ پیش آیا جبکہ 7:37 پر پولیس ریسکیو ٹیم پہنچ چکی تھی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ گلی تنگ ہونے کی وجہ سے مشینری کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا رہا، متاثرین کو ابتدائی ریسکیو علاقہ مکینوں نے کیا بعد میں ریسکیو ٹیموں نے آپریشن مکمل کیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ گیس کس جگہ جمع ہوئی اور اسے آگ لگنے کا سبب کیا تھا اس کا تعین کیا جارہا ہے، پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ کو سیل کردیا تاکہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔
دھماکے کی شدت اور نوعیت جاننے کے لیے ملبے سے نمونے اور کیمیائی اثرات جمع کیے گئے ہیں، مزید حادثات سے بچنے کے لیے علاقے کی گیس اور بجلی عارضی طور پر منقطع کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات ضلعی انتظامیہ، پولیس، فرانزک ٹیمیں اور گیس کمپنیاں مل کر کریں گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی 5 رکنی انکوائری کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، آئی بی، جی ایچ کیو اور ایمرجنسی سروسز کے نمائندے شامل ہیں۔
انکوائری کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔واقعے کی وجوہات اور محکموں کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داری کے تعین کی ہدایت کی گئی ہے، کمیٹی سے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی طلب کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں گیس سلینڈر کے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 6 جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد جاں بحق ہوئے۔
حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ نو بیاہتا جوڑے سمیت 6 افراد کی آخری رسومات گزشتہ روز ادا کی گئی تھیں۔
دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے 3 گھروں کی چھتیں گر گئیں جبکہ دو ملحقہ گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق دھماکے کی گئی ہے کے لیے کی گئی
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل