خیبر پختونخوا کے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے مختلف شہری ترقیاتی اداروں میں میں 3 ارب 66 کروڑ روپے کی  مبینہ بے قاعدگیاں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ مالی سال  2023-24  میں انکشاف ہواکہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ہزار 824 کنٹریکٹ ملازمین کو قواعد کے بغیرمستقل کیاگیا اورانہیں 77کروڑ 69 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں ۔ پی ڈی اے کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی سے56 کروڑ 25 لاکھ روپےجرمانوں کی عدم وصولی کی گئی،مردان میں بیوٹیفیکشن کیلیے 58 کروڑ 26 لاکھ روپے کے ٹھیکہ دینےمیں بےقاعدگی کی گئی،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سامنے پلاٹ الاٹمنٹ میں تاخیرسے32کروڑسےزائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ رپورٹ کےمطابق پی ڈی اے انفراسٹکچرکوپہنچنےوالے 36 کروڑ روپے کے نقصانات کی رقم وصول کرنے میں ناکام رہا،ٹھکیہ داروں کی جانب سےجعلی گارنٹی جمع کرنے پر53 کروڑ 54 لاکھ روپےجرمانے کی عدم وصولی کی گئی۔ نادرن بائی پاس بس ٹرمینل کےکنسلٹنٹ کی تقرری میں بےقاعدگی اور 11کروڑ 40 لاکھ روپےکی غیر مجاذ ادائیگی کی گئی،جبکہ حیات آباد میں نجی ہسپتال کو پلاٹ کی غیر قانونی الائٹمنٹ اور 16 کروڑ 25  لاکھ روپے کی عدم وصولی کی گئی،سڑک کی تعمیر کے لئے 4 کروڑ 37 لاکھ روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کےمطابق سیف سٹی سیکیورٹی کی گاڑیوں کے غیر مجاذ استعمال کرکے خزانے کو 20 کروڑ روپے کا نقصان ہوا،کانیزہ اور ڈاگ کے علاقے میں گلیوں کی تعمیرکے 7 کروڑ 62 لاکھ کا ٹھیکہ قواعد کے بغیر جاری کیا گیا،پی ڈی اے نے ایل ای ڈی لائٹس کی خریداری میں کنٹریکٹر کو 2 کروڑ 54 لاکھ کی زائد ادائیگی کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاکھ روپے کروڑ روپے روپے کی کی گئی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا