مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج، حکومت اکیلے نہیں نمٹ سکتی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی بلکہ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام ایک ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ کے بعد غلط معلومات سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا کی انڈیا سمیت دنیا بھر میں ساکھ صفر ہوگئی، فیک نیوز واچ ڈاگ کی رپورٹ جاری
انہوں نے کہاکہ بطور وزیر اطلاعات اس چیلنج کے تدارک کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا قیام بھی شامل ہے جو وزارت اطلاعات کا ملحقہ ادارہ ہے۔
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ وزارت اطلاعات کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی باقاعدہ تصدیق کی جاتی ہے اور جعلی خبروں کو فیک انفارمیشن کا لیبل دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئی ویریفائی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے جو انتہائی حوصلہ افزا ہے، جبکہ آئی بی اے نے آئی ویریفائی پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئی ویریفائی نے مشکل اوقات میں غلط معلومات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے اور اس کے حوالہ جات نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی جرائد اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز بھی بطور مستند ذریعہ استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آگے بڑھنے کا راستہ تعاون اور ہم آہنگی میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں میڈیا انڈسٹری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور میڈیا ہاؤسز کو آگے آ کر اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کو واضح طور پر اے آئی کے طور پر لیبل کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم تمام اے آئی تیار کردہ مواد کے لیے مناسب لیبلنگ کی ضرورت ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ آئی ویریفائی جیسا نظام پاکستان میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ اور جعلی خبروں کی فوری و مؤثر نشاندہی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس جدوجہد میں پوری کمیونٹی، حکومت، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے مشترکہ کردار پر زور دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت پاکستان اس میدان میں اپنا کردار اسی طرح جاری رکھے گی جیسا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ الحمدللہ پاکستان نے اس جنگ میں مؤثر انداز میں کامیابی حاصل کی اور بیانیے کے چیلنج کا نہایت مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مس انفارمیشن کے تدارک کے لیے مکمل مینڈیٹ دے رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس پر حملہ، فیک نیوز کا بازار گرم رہا
انہوں نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی سے بھی درخواست کی کہ وہ آگے آئیں اور اپنا فعال کردار ادا کریں، جبکہ یو این ڈی پی کے ساتھ اس حوالے سے پہلے ہی ایک پروگرام پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ورلڈ اکنامک فورم کی 2024ء کی گلوبل رسک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق دنیا کو درپیش سب سے بڑا قلیل المدتی خطرہ غلط معلومات ہیں، جنہیں سب سے بڑا خطرہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انتشار اور افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ویریفائی اے آئی جعلی خبریں عطااللہ تارڑ مس انفارمیشن وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ویریفائی اے ا ئی جعلی خبریں عطااللہ تارڑ مس انفارمیشن وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز وفاقی وزیر اطلاعات نے انہوں نے کہاکہ آئی ویریفائی عطااللہ تارڑ مس انفارمیشن سب سے بڑا اے آئی کہ آئی کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز