خیبر پختونخوا میں پولیس پر حملے، بکتر بند گاڑی تباہ، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
پشاور: خیبر پختونخوا میں ٹانک اور لکی مروت کے علاقوں میں پولیس پر حملے کے دو الگ الگ واقعات میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید جب کہ 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔
حملوں میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پہلا واقعہ ضلع ٹانک کے علاقے گومل میں پیش آیا، جہاں پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) کو آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ دھماکا کوٹ ولی سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا، جہاں پولیس معمول کی گشت اور ڈیوٹی پر مامور تھی۔ زور دار دھماکے کے نتیجے میں بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں تھانہ گومل کے ایس ایچ او اسحاق احمد خان سمیت 6 پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہداء میں اے ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید، ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ شامل ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور شہداء کی لاشوں کو تحویل میں لے کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسرا واقعہ ضلع لکی مروت میں پیش آیا، جہاں تھانہ صدر کی حدود میں درہ تنگ کے قریب آئی ای ڈی بم دھماکا ہوا۔ اس حملے میں تھانہ صدر کے ایس ایچ او رازق خان سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ڈی پی او لکی مروت چوکیوں کے دورے پر تھے اور اسی راستے سے ان کی آمد متوقع تھی، تاہم دھماکا ان کے پہنچنے سے قبل ہو گیا۔ سیکورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملے کا مقصد اعلیٰ پولیس افسر کو نشانہ بنانا ہو سکتا تھا۔ علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ان حملوں کے بعد صوبے میں پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے تحت حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں جب کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بکتر بند گاڑی ایس ایچ او میں پولیس کے مطابق
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔