WE News:
2026-06-03@00:00:21 GMT

قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری 2026 تک جاری رکھنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری 2026 تک جاری رکھنے کا فیصلہ

قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری 2026 تک جاری رکھنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام ہوگا، 27 نکاتی ایجنڈا جاری

قومی اسمبلی کا آج شروع ہونے والا اجلاس جمعہ 23 جنوری تک جاری رہے گا۔

اس فیصلے کا اعلان قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کا اہم فیصلہ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ ہموار

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ پارلیمانی اجلاس کے دوران قانون سازی، وقفۂ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل امور پر بحث کی جائے گی۔

اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟

اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی اور قومی اسمبلی کے اراکین سید نوید قمر، اعجاز حسین جکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق، نزہت صادق، سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب شریک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قومی اسمبلی قومی اسمبلی اجلاس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی قومی اسمبلی اجلاس قومی اسمبلی کا اجلاس میں کا اجلاس

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ