قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری 2026 تک جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری 2026 تک جاری رکھنے کا فیصلہ
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام ہوگا، 27 نکاتی ایجنڈا جاری
قومی اسمبلی کا آج شروع ہونے والا اجلاس جمعہ 23 جنوری تک جاری رہے گا۔
اس فیصلے کا اعلان قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کا اہم فیصلہ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ ہموار
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ پارلیمانی اجلاس کے دوران قانون سازی، وقفۂ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل امور پر بحث کی جائے گی۔
اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟
اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی اور قومی اسمبلی کے اراکین سید نوید قمر، اعجاز حسین جکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق، نزہت صادق، سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب شریک ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قومی اسمبلی قومی اسمبلی اجلاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی قومی اسمبلی اجلاس قومی اسمبلی کا اجلاس میں کا اجلاس
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔