اسلام آباد:

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پوری امت کا اجماع ہے کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہو سکتا، پکڑے گئے اور مارے گئے دہشت گردوں کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔

قومی پیغام امن کمیٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے سیکریٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، ملک میں امن کے لیے علمائے کرام کا اہم کردار ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور ملک نہیں، پیغام امن کمیٹی اس نظریئے کو آگے لے کر چلے گی کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری امت کا اجماع ہے کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہو سکتا، ہم امن کا فروغ چاہتے ہیں، علماء کرام نے ہر دور میں ملک کی خدمت کی ہے، قومی پیغام امن کمیٹی بااختیار ہے، قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد امن کے پیغام کو پھیلانا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے، یہ پیغام گھر گھر پہنچایا جائے گا، پشاور کے دورہ کے موقع پر تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام سے بات چیت ہوگی، ہمارا عزم ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے، پکڑے گئے اور مارے گئے دہشت گردوں کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ  فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو بیرونی فنڈنگ ہو رہی ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج دم بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، دہشت گرد معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، امن کے پیغام کو عام کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی دہشت گردوں کا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار