جاپان کی مشہور مادہ چمپینزی ’آئی‘، جو اپنی غیر معمولی ذہانت اور سائنسی تحقیق میں کردار کے باعث عالمی شہرت رکھتی تھی، 49 برس کی عمر میں مر گئی۔

یہ بھی پڑھیں: زخمی بن مانس ایک دوسرے کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ 30 سالہ تحقیق کے بعد حیران کن انکشاف

کیوٹو یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر کے مطابق، آئی بڑھاپے اور اعضا کی خرابی کے باعث جان کی بازی ہارگئی۔ اس موقعے پر ریسرچ سینٹر کا عملہ ان کے ساتھ موجود تھا۔

آئی کو 1977 میں مغربی افریقہ سے جاپان منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ چمپینزی کی سوچ اور ذہنی صلاحیتوں پر تحقیق کرنے والے ایک اہم منصوبے کا مرکزی موضوع بنی۔ وہ نہ صرف ذہین تھی بلکہ کاغذ پر ڈرائنگ اور پینٹنگ کرنے کا شوق بھی رکھتی تھیں۔

سائنس دانوں کے مطابق آئی میں اتنی ذہانت موجود تھی کہ وہ نمبروں کو سمجھ سکتی تھی اور مختلف رنگوں میں فرق کر سکتی تھی۔ اس کو کم عمری ہی سے ایک خصوصی کمپیوٹر کی بورڈ کے ذریعے تربیت دی گئی اور 5 برس کی عمر تک وہ نمبرز، رنگوں اور اشیا کو بآسانی پہچاننے لگیں۔

مزید پڑھیے: کراچی چڑیا گھر کے 26 سالہ ’بن مانس راجو‘ کی ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہو گئی

رپورٹس کے مطابق آئی 100 سے زائد چینی حروف، انگریزی حروف تہجی، صفر سے 9 تک کے نمبرز اور 11 مختلف رنگوں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ایک موقعے پر یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اس نے ایک اور چمپینزی کے ساتھ مل کر چابی کی مدد سے اپنا پنجرہ کھول کر فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔

سن 2000 میں آئی نے ایک بیٹے آیومو کو جنم دیا جو خود بھی ماں کی طرح سمجھدار ہے اور اپنی شاندار یادداشت کے باعث مشہور ہے۔

مزید پڑھیں: میٹا نے چینی اے آئی ’مانس‘ 2 ارب ڈالر میں خرید لیا

آئی کی غیر معمولی ذہانت کے باعث ان پر متعدد سائنسی تحقیقی مقالے اور میڈیا پروگرام تیار کیے گئے جن میں معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جاپانی چیمپینزی چمپینزی چیمپینزی آئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاپانی چیمپینزی چمپینزی چیمپینزی ا ئی کے باعث

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ