غیر معمولی ذہین اور پینٹنگ کی شوقین جاپانی چمپینزی 49 برس کی عمر میں چل بسی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
جاپان کی مشہور مادہ چمپینزی ’آئی‘، جو اپنی غیر معمولی ذہانت اور سائنسی تحقیق میں کردار کے باعث عالمی شہرت رکھتی تھی، 49 برس کی عمر میں مر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: زخمی بن مانس ایک دوسرے کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ 30 سالہ تحقیق کے بعد حیران کن انکشاف
کیوٹو یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر کے مطابق، آئی بڑھاپے اور اعضا کی خرابی کے باعث جان کی بازی ہارگئی۔ اس موقعے پر ریسرچ سینٹر کا عملہ ان کے ساتھ موجود تھا۔
آئی کو 1977 میں مغربی افریقہ سے جاپان منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ چمپینزی کی سوچ اور ذہنی صلاحیتوں پر تحقیق کرنے والے ایک اہم منصوبے کا مرکزی موضوع بنی۔ وہ نہ صرف ذہین تھی بلکہ کاغذ پر ڈرائنگ اور پینٹنگ کرنے کا شوق بھی رکھتی تھیں۔
سائنس دانوں کے مطابق آئی میں اتنی ذہانت موجود تھی کہ وہ نمبروں کو سمجھ سکتی تھی اور مختلف رنگوں میں فرق کر سکتی تھی۔ اس کو کم عمری ہی سے ایک خصوصی کمپیوٹر کی بورڈ کے ذریعے تربیت دی گئی اور 5 برس کی عمر تک وہ نمبرز، رنگوں اور اشیا کو بآسانی پہچاننے لگیں۔
مزید پڑھیے: کراچی چڑیا گھر کے 26 سالہ ’بن مانس راجو‘ کی ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہو گئی
رپورٹس کے مطابق آئی 100 سے زائد چینی حروف، انگریزی حروف تہجی، صفر سے 9 تک کے نمبرز اور 11 مختلف رنگوں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ایک موقعے پر یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اس نے ایک اور چمپینزی کے ساتھ مل کر چابی کی مدد سے اپنا پنجرہ کھول کر فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔
سن 2000 میں آئی نے ایک بیٹے آیومو کو جنم دیا جو خود بھی ماں کی طرح سمجھدار ہے اور اپنی شاندار یادداشت کے باعث مشہور ہے۔
مزید پڑھیں: میٹا نے چینی اے آئی ’مانس‘ 2 ارب ڈالر میں خرید لیا
آئی کی غیر معمولی ذہانت کے باعث ان پر متعدد سائنسی تحقیقی مقالے اور میڈیا پروگرام تیار کیے گئے جن میں معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاپانی چیمپینزی چمپینزی چیمپینزی آئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپانی چیمپینزی چمپینزی چیمپینزی ا ئی کے باعث
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر