City 42:
2026-07-24@00:51:55 GMT

نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

ویب ڈیسک : نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں اور حتمی ڈیزائن کی منظوری کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو وفاقی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئی کرنسی جدید اور مؤثر سکیورٹی فیچرز سے آراستہ ہوگی، تاہم اب تک نوٹوں کے حتمی ڈیزائن موصول نہیں ہوئے,جیسے ہی منظوری ملے گی، نئی کرنسی کی چھپائی میں کم از کم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا،اس مقصد کے لیے جدید مشینری پہلے ہی دستیاب ہے۔

بھارت کا بڑا کرکٹر زخمی ، نیوزی لینڈ سیریز سے آؤٹ،متبادل کون؟

سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے سینئر منیجر پرنٹنگ عامر شمس کے مطابق  سٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے درمیان نئی کرنسی کی چھپائی سے متعلق مشاورت ہو چکی ہے،نئی کرنسی کے ڈیزائن مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے یا تمام مالیت کے نوٹ ایک ساتھ متعارف کرائے جائیں گے، اس حوالے سے فیصلہ سٹیٹ بینک میں زیر غور ہے، امکان ہے سٹیٹ بینک رواں سال نئی کرنسی کی چھپائی کے لیے باضابطہ ٹائم لائن جاری کرے گا۔

پاکستان سے سفر کرنیوالے مسافروں کیلئے خوشخبری

ذرائع کے مطابق نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا باضابطہ آرڈر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی دیا جائے گا، سٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن شارٹ لسٹ کر کے حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں، کابینہ کی منظوری کی صورت میں 2026 کے آخری مہینوں میں نئے ڈیزائن والی کرنسی کا اجراء ممکن ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹیٹ بینک کی چھپائی

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس