Jasarat News:
2026-07-24@00:53:38 GMT

دلیل محبت 

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

دلیل محبت 

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">تم کہاں جا رہی ہو ؟غزہغزہ ! لیکن غ زہ میں کیا ہے ؟وہاں ابو عبیدہ ہےتمہیں یاد ہے وہ چھوٹی سی بچی جو اپنی ننھی سی کمزور کمر پر اپنا بیگ پیک اٹھائے غ زہ جانے کے لئے پر جوش تھی ؟یہ بالکل  سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد کی ایک چھوٹی بچی کی ویڈیو تھی جو سوشل میڈیا پر بڑی مشہور ہوئیاور اس بچی کے لئے بس یہ اطمینان کافی تھا غ زہ کی جانب سفر کرنے کے لئے کہ وہاں وہ ” مجاہد ابو عبیدہ ” موجود ہیں اور یقینا  رب العالمین کے بعد ابو عبیدہ اس کی حفاظت کے لئے اس کی زمین کی آزادی کے لئے اس کا سہارا ہیںاکثریت کے دل اس بچی کے یقین کے ساتھ جڑے تھے وہ الفاظ بے شک ایک چھوٹی، معصوم بچی کے تھے لیکن ترجمان ہر اس امتی کے تھے جو بیت المقدس و فلسطین کی آزادی کا دل کی شدت سے خواہاں اور دعا گو ہے ،اللہ جب جیسے جہاں چاہتا ہے اپنے بندوں کے ہاتھ اور ان کی زبان بن جاتا ہے اپنے بندوں کے الفاظ بن جاتا ہے بے شک ،کچھ یقین ایسے ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے وہ ہماری زندگی کی سانسوں کے تھم جانے تک ہمارے ساتھ رہیں اور ایسا ہی یقین ہماری اکثریت کا ” حذیفہ الکحلوت ابو عبیدہ ”  کے ساتھ بندھا ہوا تھاغ زہ میں وہ موجود ہیں۔ وہ  القسامی قائد جنہیں نہ کبھی دیکھا نہ کبھی ملاقات ہوئی نہ ان کی پوری تاریخ یا بائیو ڈیٹا معلوم تھا ایک آواز کا رشتہ انہیں میلوں دور سے ” ہمارا اپنا قائد ” بنا چکا تھا ، دلوں میں موجود عقیدت ان کی حفاظت کے لئے دعا گو رہتی ،دل ان کی کامیابی کے لئے ہر وقت اللہ سبحان تعالٰی کے سامنے سر بسجود رہتے ۔سرخ کوفیہ چہرے پر لپیٹے اور اس نقاب سے جھانکتی ان کی وہ عقاب کی آنکھوں سی تیز ‘ روشن ،چمکدار اور چوکنی نگاہیں اپنے مخاطب کو یقینا کچھ پل کے لئے ساکت کر دیتی ہوں گی ،دشمن یقینا چاہتا ہوگا کہ ان کا چہرہ دیکھ لے پہچان لے لیکن ان کی ان زیرک نگاہوں کے خوف سے وہ بھی کبھی ان کے چہرے کو منظر عام پر نہ لا سکا ایک مجاہد کی اس سے بڑی کامرانی کیا ہوگی کہ دشمن اس کے وجود سے خوف رکھتا ہو ،30 اگست کو  جب ان کے اہل خانہ کی شہادت کی خبر آئی تو تب ہی سے بہت سے دلوں کو یہ دھڑکا لگ گیا تھا کہ ”  کیا ابو عبیدہ خیریت سے ہیں ” ؟اکثر لوگ سوال کرتے لیکن کسی میں ان کی زندگی سے متعلق کوئی مایوس کن بات کہنے کی ہمت نہ ہوتی ہاں یہ ضرور ہوتا کہ موت کو امر خداوندی مانتے ہوئے سب ایک دوسرے کو حوصلہ دلاتے ان الفاظ کے ساتھ ” موت تو ابدی زندگی ہے ، ابو عبیدہ نہ بھی رہے تو کیا ہوا ایک ابو عبیدہ کی جگہ سینکڑوں ابو عبیدہ میدان جہاد میں نظر آ جائیں گے، مایوسی نہ پھیلائیں ، غ زہ میں تو بچہ بچہ ابو عبیدہ ہے “لیکن ہم جانتے ہیں کہ ” شیخ ابو عبیدہ شہید ” ایک ہی تھےاس سے پہلے بھی دجالی 14 حملے کر چکے تھے شیر کو زیر کرنے کے لئے لیکن ہمیشہ ناکام ہی رہے اور اس دن بھی واحد مجاہد ابو عبیدہ کی اتنی دہشت تھی ان دجالیوں کو کہ ابو عبیدہ کو شہید کرنے کے لئے انہیں اپنی پوری طاقت لگانی پڑی وہ یہ حملہ ناکام نہ ہونے دینا چاہتے تھے اس لئے نیچ و گھٹیا دشمن کی اولین مثال بنتے ہوئے انہوں نے ابو عبیدہ کو اس وقت شہید کیا جب وہ اپنے معصوم بچوں سے اپنی اہلیہ سے ملاقات کے لئے آئے تھے گھٹیا دشمن نے ایک ابو عبیدہ کو مٹانے کے لئے ان کے تین معصوم بچوں سمیت 70 افراد کو شہید کیا جس میں 40 افراد ابو عبیدہ کے اپنے اہل خانہ تھے اور بقیہ 30 عام شہری ۔میں سوچتی ہوں کہ شہید ابو عبیدہ کی تربیت کن خطوط پر کی گئی ہوگی بلکہ فلسطین میں تو ہر بچے ہر بڑے کی تربیت کا ایک ایسا انداز ہے جو فی زمانہ حال کہیں اور نظر نہیں آتاکیا بچہ کیا جوان ،عورت ہو یا مرد سب ہی اپنی زندگیوں کے خود کو دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو من و عن سمجھے ہوئے ہیں اور دن رات اسی مقصد کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں اور پھر جو اپنے دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو پا لیتا ہے اس کی زندگی ویسی ہی گزرتی ہے جیسے شہید ابو عبیدہ کی گزری ، شہید محمد السنوار شہید یحی السنوار شہید قائد اسمٰعیل ہانیہ کی گزری ‘مائک پر بولتی وہ آواز جو حوصلہ بڑھاتی تھی امید پیدا کرتی تھی اب جنت نشینوں کے حصے میں چلی گئی ،اللہ سبحان تعالٰی کو اپنے پسندیدہ بندے کی پکار پر مسلم افواج و حکمرانوں کی لاپرواہی ،بے حسی پسند نہ آئیمجھے شہید قائد کے بھائی ابراہیم الکحلوت کے الفاظ یاد ہیں جو انہوں نے شہید ابو عبیدہ کے دہرائے تھے “تم اللہ سبحان تعالٰی کے سامنے ہمارے مد مقابل ہو گے “گزرتے دسمبر میں جب ان کی شہادت کی خبر منظر عام پر آئی تو وہ جو خدشہ تھا ان کی شہادت کا ‘ اس خدشے نے بھی دلوں کو دماغوں کو پہلے سے اس غم کو سہنے کے لئے تیار نہ  کیا ہوا تھا بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے بالکل اچانک ایک ناممکن سی بات سن لی ہو اور جب کوئی ناممکن سی دکھ کی بات اچانک سنی جائے تو اس کے دکھ کی شدت کا کوئی کنارا نہیں ہوتا بالکل یہ ہی حال عسقلانی شاہزادے کی جدائی پر ہےوہ ستارہ جو عسقلان کے آسمان سے غ زہ  تک اپنی روشنی بکھیرتا آیا تھا اسے اللہ سبحان تعالٰی نے پھر اس  مرتبہ اپنی جگہ بدل لینے کا اذن دے دیا ہے ،آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم وہی کہیں گے جو ہمارے اللہ  کو پسند ہے۔ہمارا یقین ہے کہ ابو عبیدہ نے شہادت کی اپنی ابدی زندگی حاصل کر لی ہے کہ جس کا وعدہ اللہ کا ہے اور وہ ہماری عقل و شعور سے کہیں دور اپنی جگمگاہٹ کے ساتھ موجود اللہ کی جنتوں کے وارث بنے ہوئے ہیں،اللہ سبحان تعالٰی شہید القسامی قائد ابو عبیدہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں آمینشہید قائد ابو عبیدہ ہم آپ کی شہادت پر غمزدہ ہیں تکلیف میں ہیں لیکن اللہ کے وعدے پر ایمان ہے جو اس نے شہداء کی پذیرائی کے لئے کر رکھا ہےنہ جانے کس کے الفاظ ہیں لیکن انہیں پڑھ کر شہید قائد ابو عبیدہ کی ساری زندگی کی  جدوجہد اور پھر ان کی جدائی کا احساس شدید ترین ہو گیاہم نے رسم محبت کو زندہ کیا، زخم دل جیت کر نقد جاں ہار کرہم سے بزم شہادت کو رونق ملی، جانے کتنی تمناوں کو مار کرکچھ نے دعوے محبت کے دائر کیےاور متاعِ دل و جاں بچا لے گئےکوئی لایا دلیلِ محبت مگر خون کی ایک اک بوند کو وار کر عظمی نسیم احمد

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ سبحان تعال ی ابو عبیدہ کی ابو عبیدہ کو شہید قائد کی شہادت کے ساتھ ہیں اور کے لئے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی