data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سڈنی: آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) سیزن 15 کے ایک غیر معمولی اور متنازع واقعے نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی، میلبورن رینیگیڈز کے کپتان نے سڈنی تھنڈر کے خلاف میچ کے دوران پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو بیٹنگ کے دوران ہی میدان چھوڑنے کا اشارہ کر دیا۔

یہ واقعہ پیر کو کھیلے گئے بگ بیش لیگ کے 15ویں ایڈیشن کے 33ویں میچ میں پیش آیا، میچ کے دوران محمد رضوان 23 گیندوں پر 26 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے کہ اچانک کپتان ول سدرلینڈ نے انہیں پویلین واپس جانے کا اشارہ کیا، جس کے بعد رضوان کو ریٹائر آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ ٹیم کے اسکور میں تیزی لانے کے لیے خود کپتان بیٹنگ کے لیے آ سکیں۔

بگ بیش لیگ کی جانب سے اس لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی، جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کپتان رضوان کو میدان سے باہر جانے کا اشارہ کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں کمنٹیٹرز کی جانب سے بھی یہ تبصرہ سنائی دیا کہ یہ فیصلہ شاید پہلے ہی کیا جا سکتا تھا۔ یہ کلپ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور شائقینِ کرکٹ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔

مداحوں کی بڑی تعداد نے محمد رضوان کو اس انداز میں ریٹائر آؤٹ کیے جانے کو غیر ضروری، توہین آمیز اور شرمناک قرار دیا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ایک تجربہ کار بین الاقوامی کھلاڑی کے ساتھ اس طرح کا سلوک پیشہ ورانہ کرکٹ کے اصولوں کے منافی ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محمد رضوان اس سیزن میں بیٹنگ کے اعتبار سے تسلسل کا شکار رہے ہیں۔ وہ اب تک 8 میچوں میں 167 رنز ہی بنا سکے ہیں، ان کی اوسط 20.

88 رہی جبکہ وہ ایک بھی نصف سنچری اسکور کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ٹیم مینجمنٹ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

میچ کی مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو میلبورن رینیگیڈز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز بنائے۔ تاہم میچ سے زیادہ توجہ اس غیر معمولی فیصلے نے حاصل کی، جس نے بگ بیش لیگ میں ریٹائر آؤٹ کے استعمال اور اس کی اخلاقی حدود پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمد رضوان بگ بیش لیگ رضوان کو

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم